انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 171

انوار العلوم جلد 26 171 سیر روحانی (10) معاویہ بن یزید کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں ایک گندا پورا پیدا ہو ا جس کا نام یزید ہے۔یزید یزید ہی تھا مگر آخر محمد رسول اللہ ایک ایمان افروز واقعہ کے باغ کا پودا کہلا تا تھا۔اس کے گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوا تو اُس نے اُس کا نام بھی اپنے باپ کے نام پر معاویہ رکھا۔مگر ایسے گندے باپ کا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے اور اُن کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ایسا پھلا پھولا کہ اس کے واقعہ کو پڑھ کر لطف محسوس ہوتا ہے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب یزید کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹے معاویہ کو خلیفہ مقرر کیا۔لوگوں سے بیعت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے بیعت تو لے لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت کا زیادہ اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اُس وقت سے لے کر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اُس کے سپرد کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں۔مگر با وجود بہت غور کرنے کے مجھے تم میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سن لو کہ میں اس منصب کے اہل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ اور میرا دادا بھی اس منصب کے قابل نہیں تھے۔میرا باپ یزید حسین سے درجہ میں بہت کم تھا۔اور اُس کا باپ یعنی معاویہ حسن حسین کے باپ یعنی حضرت علیؓ سے کم درجے والا تھا اور اس کے بعد به نسبت میرے دادا اور باپ کے حسن اور حسین خلافت کے زیادہ حقدار تھے اس لئے میں اس امارت سے سبکدوش ہوتا ہوں۔اب یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ جس کی چاہو بیعت کر لو۔اُس کی ماں اُس وقت پردہ کے پیچھے اُس کی تقریر سن رہی تھی۔جب اُس نے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو کہا کمبخت! تو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے اور اُس کی تمام عزت خاک میں ملا دی ہے۔وہ سن کر کہنے لگا کہ جو سچی بات تھی وہ میں نے کہہ دی ہے اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور تھوڑے