انوارالعلوم (جلد 26) — Page 170
انوار العلوم جلد 26 170 سیر روحانی (10) کہ میرا کیا تبرک ہے یہ تو محمد رسول اللہ کا تبرک ہے اور خدا اس کو محمد رسول اللہ کی قوم سے لڑنے کی وجہ سے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے اپنی پرانی ٹوپی جس پر دو دو انگل میں چڑھی ہوئی تھی وہ دے دی کہ جاؤ اور یہ ٹوپی اُس کو دے دو۔جو تبرک لینے آیا تھا وہ سفیر اُس کو لے گیا۔بادشاہ کو بڑی بُری لگی اور اُس نے اُسے حقیر سمجھا۔وہ ریشمی ٹوپیاں اور سونے کے تاج پہنے والا بادشاہ بھلا حضرت عمر کی دود و انگل میل والی چکنی چپٹی ٹوپی سر پر رکھنے سے کتنا گھبراتا ہوگا۔اُس نے کہا پھینکو اس کو میں نہیں پہن سکتا۔مگر تھوڑی دیر بعد جو در دکا دورہ ہو ا تو کہنے لگا لے آنا ٹوپی۔وہ ٹوپی رکھی تو سر کا درد دور ہو گیا اور خدا نے فضل کر دیا۔جب درد کو ایک دن آرام رہا تو پھر دل میں کچھ خیال آیا کہ میرے جیسا بادشاہ ایسی غلیظ ٹوپی پہنے۔کہنے لگا پھینکو پرے اس کمبخت کو۔انہوں نے پھر پھینک دی مگر پھر درد ہو گئی۔پھر اپنے درباریوں سے منتیں کرنے لگا کہ خدا کے واسطے وہ ٹوپی لا نا میں مرا جا رہا ہوں۔پھر سر پر ٹوپی رکھی تو آرام آ گیا۔بہر حال وہ ٹوپی لینے پر مجبور ہوا اور اُس کو سر پر رکھتا رہا۔27 اب دیکھو حضرت عمرؓ کا درخت جو محمد رسول اللہ نے لگایا تھا اُس کا کیسا لمبا سا یہ تھا۔عمر مدینہ میں بیٹھا ہو ا تھا اور روم کے بادشاہ پر اُس کا سایہ تھا۔چنانچہ بادشاہ روم کو بھی اُس کے نیچے بیٹھنے سے آرام آیا۔عمر کیا تھے؟ محمد رسول اللہ کے باغ کا ایک درخت ہی تھے۔اور روم کا بادشاہ کیا تھا؟ مسیح اور موسیٰ کے باغ کا ایک درخت تھا۔عام درختوں کے اندر تو یہ بات پائی جاتی ہے کہ بڑے درختوں کے نیچے اگر اُن کو لگایا جائے تو وہ سو کھنے لگ جاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ کے باغ کا درخت عمرؓ ایسا با برکت تھا کہ مسیح اور موسی کے باغ کا درخت جب اُس کے نیچے لگایا گیا یعنی روم کے بادشاہ کے سر پر اُس کی ٹوپی رکھی گئی تو بجائے سُوکھنے کے سرسبز و شاداب ہونے لگ گیا۔وہ برکتوں والا زمانہ تو گزر گیا مگر پھر بھی محمدی باغ میں ایسے ایسے درخت لگے کہ دنیا کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔