انوارالعلوم (جلد 26) — Page 169
انوار العلوم جلد 26 169 سیر روحانی (10) بیٹے کی بیعت کر لی ہے؟ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ ابھی تک اُس کا ایمان کمزور تھا۔ اُس نے کہا سب نے کر لی ہے۔ ہر اک نے آگے آگے بڑھ کر بیعت کی ۔ عمر خطاب نے بھی کی ، عثمان نے بھی کی اور باقی صحابہؓ نے بھی کی اور مہاجرین نے بھی کی اور انصار نے بھی کی ۔ جب اُس نے یہ سنا تو اُس پر اتنا اثر ہوا کہ اُس کے دل کی جو کمزوری ایمان تھی وہ دُور ہوگئی ۔ اور کہنے لگا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ۔ اگر محمد رسول اللہ کے بعد لوگوں نے میرے بیٹے کی بیعت کر لی ہے اور محمد رسول اللہ کا اتنا اثر ہے اور اتنی برکت ہے تو پھر اُن کے خدا کا رسول ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ 26 لیکن اِدھر تو یہ حالت تھی کہ باپ اس حضرت ابوبکرؓ کا قیصر وکسری پر رعب والے بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ میرا بیٹا خلیفہ ہو سکتا ہے اور اُدھر یہ حالت تھی کہ ابو بکر آرام سے ایک کچی کوٹھڑی میں مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن قیصر اپنے محل میں اُن کے نام سے کانپ رہا تھا اور کسری اپنے محل میں ایران میں بیٹھا ہوا ہزار ہزار میل پر کانپ رہا تھا۔ ابوبکر ابوقحافہ کا بیٹا جس کو مکہ میں بھی کوئی عظمت حاصل نہیں تھی وہ مدینہ کی کچی کوٹھڑی میں بیٹھا تھا لیکن قیصر قسطنطنیہ میں ایک بڑے پکے محل میں بیٹھا ہوا تھا اور کسری ایران میں ایک بڑے پکے محل میں بیٹھا ہو اتھا لیکن ابوبکر کا نام آتا تھا تو کانپ جاتے تھے ۔ یہی حال عمر کا تھا ، یہی حال عثمان کا تھا ، یہی حال حضرت علی کا تھا۔ شاہ روم کا حضرت عمرؓ سے تبرک منگوانا حضرت عمر کا سایہ تو اتنا بڑھا کہ لکھا ہے ایک دفعہ روم کے بادشاہ کے سر میں سخت درد ہوئی کسی علاج سے فائدہ نہ ہوتا تھا۔ رومی بادشاہ کو کسی نے کہا کہ آپ نے علاج تو بہت کر دیکھے اب ذرا عمرؓ سے کچھ تبرک منگوائیے ، سنا ہے اُس کی چیزوں میں بڑی برکت ہے۔ شاید اس تبرک کی برکت سے آپ کی درد ہٹ جائے ۔ وہ تھا تو مخالف اور اُس کی فوجیں عمر کی فوجوں کے ساتھ لڑ رہی تھیں مگر مرتا کیا نہ کرتا ۔ سردرد کی برداشت نہ ہوئی ۔ آخر حضرت عمرؓ کے پاس سفیر بھیجا کہ اپنا کوئی تبرک بھیجیں ۔ حضرت عمرؓ نے بھی سمجھا