انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 161

انوار العلوم جلد 26 161 سیر روحانی (10) نے یہودیوں کو تباہ کر دیا۔اُن کے معبد گرا دیئے اور انہیں قید کر کے لے گیا۔پس اُن کی اتباع کا جو زمانہ تھا یا حزقی ایل اور دانی ایل کا زمانہ تھا وہ کھیتیوں کا زمانہ تھا۔یعنی اُن کی مثال ایک کھیتی کی سی تھی نہ کہ باغ کی جو کہ غَنَمُ الْقَوْمِ کے چر جانے کے خطرہ میں ہوتی ہے۔یعنی جب قوم کمزور پڑ جاتی ہے تو دشمن قو میں اس کو لوٹ سکتی ہیں۔اسی کو قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ 20 - پاس کی ہمسایہ قوموں کے جو جانور تھے اور بھیڑیں وغیرہ تھیں وہ اس کھیتی میں چر گئیں۔یعنی ارد گر دجو بخت نصر کا علاقہ یا رومی علاقہ تھا انہوں نے آکر موسوی کھیتی کو اپنے آگے رکھ لیا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ درمیان میں نہر ہو گی۔یعنی آخری زمانہ اور موسوی زمانہ کے درمیان حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیا جائے گا۔چنانچہ موسوی قوم کی دو ترقیوں کے درمیان حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے اور انہوں نے موسوی باغ کے لئے نہر کا کام دیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی سلسلہ دہرانے کا محمدرسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ فرمایا گیا ہے۔بھی دو باغ عطا کئے جانے کا وعدہ چنا نچہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ * رَسُولًا - 21 اے مکہ والو ! ہم نے تمہاری طرف بھی ایک رسول تمہارا نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف موسی کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔یعنی محمد رسول اللہ مثیل موسی ہیں۔اور موسی کی قوم کے حالات ایک رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پیش آئیں گے۔یعنی ان کو بھی دو باغ ملیں گے۔اور موسی کی طرح اُن کے زمانہ نبوت میں بھی ایک باغ تو وہ ہو گا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بغیر کسی اور ماً مور کی مدد کے چلے گی۔لیکن آخر میں اسلام کے تنزل کا دور آ جائے گا اور وہ کھیتیوں کی طرح رہ جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ موسوی سلسلہ کی طرح ایک مسیح محمدی بھیجے گا جس کی اُمت دوسرے باغ کی حیثیت رکھے گی۔لیکن ہو گی وہ بھی محمد رسول اللہ کی اُمت اور اس کا باغ بھی محمد رسول اللہ کا باغ ہی کہلائے گا۔لیکن اس فرق سے کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم