انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 154

انوار العلوم جلد 26 154 سیر روحانی (10) چھوڑ دیا۔جب پھل کا موسم آیا تو کھجوروں کو پھل نہ لگا، یا بہت کم لگا۔اُن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ کی نصیحت پر عمل کر کے ہم تو مارے گئے۔آپ نے تلقیح سے یعنی نر درخت کو مادہ درخت سے ملانے سے منع کیا تھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا پھل بہت ہی کم آیا۔آپ نے فرمایا کہ اس فن کے تم ماہر ہو میں ماہر نہیں ہوں ، مجھے اس حقیقت کا کیا علم تھا، تم کو چاہئے تھا کہ میری بات نہ مانتے۔3 اس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو جو قرآن کریم میں قاعدہ کے طور پر بیان کی گئی تھی اپنے کسی علم کے ذریعہ سے نہیں جانتے تھے یہ محض الہامی علم تھا۔پس اس واقعہ سے ہر عقلمند خواہ کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی مذہب کا ماننے والا ہو سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہو انہیں تھا۔ورنہ وہ بات جو وہ جانتے نہیں تھے اس میں لکھتے کس طرح؟ قرآن کریم عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَة خدا کا اُتارا ہوا تھا اس لئے اس میں علاوہ روحانی علوم کے مادی علوم بھی ایسے بیان کئے گئے جن کو محمد رسول اللہ تو بالکل نہیں جانتے تھے مگر دنیا بھی نہایت محد و درنگ میں اُن سے واقف تھی۔جیسے عربوں میں یہ علم تھا کہ کھجور میں نر و مادہ ہوتا ہے مگر باوجود اس کے کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں مسلمانوں نے دُنیوی علوم میں بڑی ترقی کی ہے اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود تھی انہوں نے اس مسئلہ میں کوئی ترقی نہیں کی کیونکہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ تیرہ سو سال بعد سائنس نے جو دریافت کی ہے وہ قرآن کریم میں پہلے سے موجود تھی۔موجودہ سائنس دانوں کی تحقیق اب سائنس دان کہتے ہیں کہ صرف کھجور میں ہی نرومادہ نہیں بلکہ اور درختوں میں بھی ہیں۔مثلاً پپیتا میں بھی ہیں۔پپیتا کے درخت میں بھی ایک نر پتا ہوتا ہے اور ایک مادہ پپیتا۔میرے سندھ کے باغ میں بہت سے پیپتے لگے ہوئے ہیں۔کیونکہ وہاں پپیتے بہت ہوتے ہیں اور ہم بھی لگواتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے دیکھا تو درختوں پر پھل نہیں تھا۔میں نے کہا پھل