انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 147

انوار العلوم جلد 26 147 سیر روحانی (10) ہوا ہے۔یہ بات ٹھیک تھی۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جب میں بیمار ہوا اور باہر گیا تو اپنی زمینوں کا انتظام وغیرہ کرنے کے لئے چونکہ کئی ہزار روپیہ ماہوار تو وہاں کے مینیجروں اور عملہ وغیرہ کی تنخواہ ہوتی ہے میں اپنے پیچھے اپنے داماد نا صر سیال کو انتظام کے لئے مقرر کر گیا۔وہ بچہ اور نا تجربہ کار تھا اس نے غلطی کی وجہ سے بجٹ کو اپنے قابو میں نہ رکھا اور خرچ بڑھتا گیا۔میں احتیاطاً خزانہ کے افسر کو کہہ گیا تھا کہ مہربانی کر کے اس کو اوور ڈرا کر دیں اگر ضرورت پیش آئے۔اور یہ بنکوں کا قاعدہ ہے جو پرانے گاہک ہوتے ہیں اُن کو اوور ڈرا کرتے رہتے ہیں حتی کہ سرکاری بنک بھی ہمیں اوور ڈرا کر دیتے ہیں۔یہ بات انہوں نے منظور کرلی اور ان کو رقم دیتے گئے۔سو یہ بات ٹھیک تھی کہ اوور ڈرا میرے نام پر تھا کیونکہ میں ہی اس کا ذمہ دار تھا۔ناصر سیال میری طرف سے منتظم تھا لیکن اصل ذمہ دار تو میں ہی تھا پس وہ اوور ڈرا ہوا ہوا تھا۔میں اُس وقت چُپ کر کے بیٹھا رہا کہ پہلے یہ قرضہ ادا ہو جائے پھر کچھ کہوں گا۔چنانچہ جلسہ سے پہلے وہ ساری رقم ادا کرنے کے بعد میں نے امانت کے افسر سے یہ تحریر لے لی ہے کہ ایک ایک پیسہ ادا ہو چکا ہے اور اب کوئی رقم آپ کے ذمہ باقی نہیں رہی۔اس لئے آج میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ یہ سچا واقعہ تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں اوور ڈرا تھا مگر چونکہ میں ان کا پرانا امانت دار ہوں اور جب کبھی میرے ذمہ کوئی رقم ہوئی میں نے بلا چون و چرا ان کو ادا کر دی ہے اس لئے میری بیماری کی حالت میں اور سفر کی حالت میں انہوں نے منظور کر لیا کہ ناصر سیال کے کہنے پر وہ اوور ڈرا دے دیں گے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے جس دن میں آیا اُسی دن سے میں نے اپنے بچوں کو کہنا شروع کیا کہ اپنے سارے خرچ رو کو مگر قرضہ ادا کرو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سے پہلے وہ سب قرض ادا ہو گیا اور افسر صاحب امانت کی تحریر میرے پاس آگئی کہ اب ایک پیسہ بھی آپ کی امانت پر اوور ڈرا نہیں ساری کی ساری واپس ہو چکی ہے۔ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاکستان میں لوگوں کو ایک بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے اور وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔کشمیر کے مسئلہ میں آج تک پاکستان حیران بیٹھا ہے اور پاکستانی ، گورنمنٹ سے بھی زیادہ حیران بیٹھے ہیں۔یہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ جب تک