انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 146

انوار العلوم جلد 26 146 سیر روحانی (10) دیکھیں۔ہم نے انتظام کیا ہے کہ کوئی دوست ان کو وہاں لے جائے۔پشاور کی جماعت یہاں بیٹھی ہے ان کو بھی میں پیغام دیتا ہوں کہ وہ جا کر کوئی مناسب انتظام کریں اور جب ان کو اطلاع ملے کہ وہ آ رہے ہیں تو اُس وقت اُن کے لئے درہ خیبر کے دیکھنے کا مناسب انتظام کریں۔کیونکہ جرمن لوگوں میں جنگی قوم ہونے کی وجہ سے پٹھانوں کا ملک دیکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔چنانچہ جب کنزے صاحب مسلمان ہو کر آئے تھے تو وہ بھی کوئی چھ مہینے جا کر پشاور رہے تھے۔یہ قدرتی اشتیاق ہے۔ان کے دل پر اثر بھی ہوگا کہ ہمارے بھائی کس طرح اپنے بیرونی بھائیوں کی قدر کرتے ہیں اس لئے جماعت پشاور جا کر ان کے دیکھنے کا مناسب انتظام کرے۔بلکہ اردگرد ہمارے بعض احمدی بھی ہیں جن کا علاقہ پر اچھا اثر ہے پس ان کے ارد گرد جو پٹھان ہیں وہ ان میں تحریک کریں۔میں جب گیا تھا تو انہوں نے دعوت بھی کی تھی اور پھر ایک شخص تو جس سے ہمارے دوست ڈرتے تھے کہ حملہ نہ کر دے بندوق لے کرنا چنے لگ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ میں تو آپ کو چائے پی کر جانے دوں گا۔میں نے کہا ہمارے پاس وقت نہیں۔کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ چلے جائیں اور ہماری ذلت ہو۔بڑی مصیبت سے اُس سے چھٹکارا حاصل کیا۔تو اُن لوگوں میں تحریک کر کے ان کو انٹروڈیوس (INTRODUCE) کر دیں تا کہ ان کی دل جوئی ہو اور ان پر یہ اثر ہو کہ پاکستانی لوگ جرمن مسافروں کے ساتھ ہمدردی اور محبت رکھتے ہیں اور احمد یہ جماعت اپنے کو مسلموں کو اپنا بھائی سمجھتی ہے۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ منافقوں کی طرف سے جو حملے کئے گئے ہیں اور جو جھوٹ بولے گئے ہیں ان میں سے ایک بات ایسی تھی جو سچی تھی۔میں آج اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی آدمی ان کا دفتروں میں موجود ہے۔وہ جو کہتے ہیں کہ جماعت میں بے انتہا بیزاری پیدا ہورہی ہے یہ تو غلط ہے۔وہ یہاں دیکھ سکتے ہیں اور ان کا اگر کوئی آدمی یہاں ہو تو دیکھ کر شرمندہ ہو سکتا ہے لیکن کوئی آدمی ہے جو دفتروں میں رہنے والا بھی ہے۔کیونکہ ایک سچی بات ان کو پتا لگ گئی اور وہ یہ کہ ” نوائے پاکستان میں ے متعلق چھپا تھا کہ خزانہ سے ان کے نام بڑا اوور ڈرا (OVERDRAW) ہوا