انوارالعلوم (جلد 26) — Page 125
انوار العلوم جلد 26 125 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ اسی طرح امۃ الرحمن زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر نے ستمبر 1956ء میں اپنے جیٹھ کے بچوں کو لکھا کہ :۔ ”ہمارے بزرگ دادا کو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے تو کبھی بھی اپنی اولاد کو خدا کے سپرد نہ کیا تھا ۔“ ( اس خط کا عکس ہمارے پاس محفوظ ہے اور ان کے بھائی دیکھ سکتے ہیں۔) حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات عبدالوہاب اور عبدالمنان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہی تھی ۔ مولوی شیر علی صاحب جیسے مخلص کی اس ناخلف بیٹی کو وہاب اور منان کی تو وہ بات بُری نہ لگی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کہی تھی لیکن وہ بات بری لگی جو جواب کے طور پر مبائعین نے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کے متعلق کہی تھی ۔ اب اخبار پیغام کے 5 دسمبر کے پرچہ میں سید تصدق حسین صاحب بغداد کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "پیغام صلح" میں وو۔ مولوی عبدالمنان صاحب عمر کا مکتوب فتنہ قادیان اور منافقین کو سمجھنے کے لئے اخوان ربوہ کو بصیرت کا کام دے گا ۔ ہم نے ”پیغام صلح کے سب پر چھے دیکھ مارے ہیں ان میں وہ مضمون نہیں ۔ مگر ہم کو ایک ٹریکٹ ملا ہے جس کے نیچے حقیقت پسند پارٹی“ لکھا ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جتھا پیغامیوں کے ساتھ ہے اور پیغامی ان ٹریکٹوں کو جو " حقیقت پسند پارٹی " چھاپ رہی ہے اپنے آدمیوں کو دنیا میں چاروں طرف یہ کہہ کر بھجوا رہی ہے کہ میاں عبدالمنان نے لکھے ہیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ ان کے یار غار ہیں ان کو پتا ہوگا کہ میاں عبدالمنان نے یہ ٹریکٹ لکھے ہیں۔ ورنہ وہ شخص جو ان کی جماعت کا بغداد میں لیڈر ہے یہ ا کیوں لکھتا کہ میاں عبدالمنان کا ٹریکٹ مل گیا ہے ۔ غرض آدم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک دین کو دنیا پر مقدم نہ کرنے کی وجہ سے نظام الہی کے خلاف بغاوتیں ہوتی چلی آئی ہیں اور آج کا پیغامی جھگڑا یا حضرت خلیفہ اول کے خاندان کا فتنہ بھی اسی وجہ سے ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی جماعت