انوارالعلوم (جلد 26) — Page xvii
انوار العلوم جلد 26 6 تعارف کنند رسول اللہ کا ہمسر تھا بلکہ ہمیشہ ہم اس کو غلام ہی سمجھتے رہیں اور ہمیشہ اس کے کام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اور اس کی جماعت کو محمد رسول اللہ کی امت سمجھتے رہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اس کو ایک ادنی غلام اور ایک چھوٹا شاگر دہی سمجھتے رہیں جس کے ذریعہ سے خدا نے محمد رسول اللہ کی عظمت قائم کی ہے۔ہم یقین رکھیں کہ مسیح موعود کو جو کچھ ملا ہے محمد رسول اللہ کے طفیل ملا ہے اور ہم کو جو مسیح موعوڈ سے ملا ہے وہ بھی محمد رسول اللہ کا ہی انعام ہے۔جو ہمارا ہے وہ مسیح موعود کا ہے جو مسیح موعود کا ہے وہ محمد رسول اللہ کا ہے اور ہر چیز سمٹ کے آکر محمد کے ہاتھوں میں جاتی ہے اور ہر بوٹا اکھیڑا جا کر آ کر محمد رسول اللہ کے باغ میں لگتا ہے۔“ (4) يوم مصلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی سے خطاب حضرت مصلح موعود ماہ فروری 1957 ء کوسندھ اور کراچی کے دورہ پر تشریف لے گئے۔حضور کے دورہ کراچی کے دوران 20 فروری کی مناسبت سے جماعت احمدیہ کراچی نے مختلف اجلاسات کا انتظام کر رکھا تھا۔پہلا جلسہ 20 فروری کو احمد یہ ہال میں منعقد ہوا جس میں احمدیوں کے علاوہ سینکڑوں غیر احمدی معززین نے بھی شرکت کی۔اس جلسہ میں حضور نے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا جو 8 مارچ 1957ء کے الفضل میں شائع ہوا۔حضور نے اپنے خطاب کے آغاز پر اختصار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پیغامیوں کی طرف سے پیدا ہونے والے حالات کا ذکر فرمایا۔1914ء سے شروع ہونے والے اپنے دور خلافت میں دنیا بھر کے مختلف مشنوں کے قیام اور جماعت کی ترقی کا ذکر فرما کر یہ بتلایا کہ دیکھیں خدا کس کے ساتھ ہے۔آپ نے بہت واضح رنگ میں پیشگوئی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ پیشگوئی مصلح موعود میں جس بیٹے کی خبر ہے اگر وہ جسمانی بیٹا مراد ہے تو وہ میں ہی ہوں۔اور اگر روحانی بیٹا مراد ہے تو