انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 93

انوار العلوم جلد 26 93 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ٹھیک ہے کہ بعض کمیونسٹ جو ہمارے دشمن تھے انہوں نے خلیل کے نام کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا تھا) میں نے مولوی صاحب سے جواباً کہا۔مجھے یہ علم نہیں نہ حضور کے علم میں یہ باتیں ہیں۔“ عبدالباسط نے در حقیقت خود کشی کی تھی جس کی تائید میں جماعت احمدیہ لائلپور نے مولوی عبید اللہ صاحب قریشی، شیخ محمد یوسف صاحب، ڈاکٹر محمد طفیل صاحب، شیخ نذر محمد صاحب، میاں محمد شفیع صاحب، کمانڈر عبداللطیف صاحب ، چودھری عبدالرحمن صاحب، ڈاکٹر چودھری عبدالاحد صاحب اور شیخ عبدالقادر صاحب مربی لاہور کی گواہیاں میرے پاس بھجوا دی ہیں۔جن میں انہوں نے کہا ہے کہ تحقیقات ہوئی اور پولیس بھی آئی اور پھر سارا واقعہ لکھا کہ اس طرح وہ کمیونسٹ دوستوں کے پاس سے آیا اور کہنے لگا میں ذرا غسل خانہ میں جانا چاہتا ہوں۔وہاں گیا تو تھوڑی دیر کے بعد ہم کو آواز آئی۔ہم نے جب جھانکا تو دیکھا کہ زمین پر گر پڑا تھا اور قے کی ہوئی تھی۔پھر ہم نے اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے رقعہ نکلا کہ میں نے خود زہر کھایا ہے کسی پر الزام نہ لگایا جائے۔چنانچہ وہ رقعہ پولیس میں دیا گیا۔اس نے تحقیقات کی اور میونسپل کمیٹی نے سرٹیفکیٹ دے دیا کہ سیو سائڈ (SUICIDE) ہے، دفن کر دیا جائے۔اس وجہ سے پولیس نے کوئی مزید کارروائی نہ کی۔خلیل کا واقعہ تمبر 1941 ء کا ہے۔1941ء میں بعض احراریوں نے کمیونسٹوں سے مل کر خلیل احمد کو کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کیا اور دوسری طرف گورنمنٹ کو اطلاع دی کہ اس کے پاس کمیونسٹ لٹریچر آتا ہے اور یہ کمیونسٹ ہے۔مجھے اس سازش کا پتا لگ گیا اور میں نے فوراً ڈاکخانہ کو لکھ دیا کہ خلیل کی ڈاک مجھے دی جایا کرے خلیل کو نہ دی جایا کرے۔میری غرض یہ تھی کہ یہ الزام نہ لگائیں کہ ڈاک کے ذریعہ اُس کے پاس لٹریچر آتا ہے۔جب وہ لٹریچر میرے پاس آئے گا تو میں اسے تلف کردوں گا اور گورنمنٹ کو کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔پولیس نے پھر بھی شرارت کی اور اس کے بعد جب میں ڈلہوزی گیا تو وہاں ڈاکیا کو ساتھ ملا کر ایک بیرنگ پیکٹ خلیل کو دلوا دیا۔چونکہ میں نے اُسے منع کیا تھا وہ فوراً میرے پاس لے آیا اور میں نے وہ