انوارالعلوم (جلد 26) — Page 92
انوار العلوم جلد 26 92 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت دو ” میری مولوی عبد السلام مرحوم سے پہلی ملاقات جنوری 1950ء میں بمقام کنڈیارو ہوئی جبکہ ہمارا تعارف چودھری ہدایت اللہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت کنڈیارو نے کرایا۔اس سے پہلے حضرت خلیفہ اسیح الاول کے لڑکوں کے نام تو جانتا تھا مگر ان میں سے میرا کوئی واقف نہ تھا۔اس دوران میں مولوی صاحب موصوف اس قسم کی باتیں کرتے رہے جس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے موجودہ نظام سے دلچسپی نہیں ہے ( یہ تو ظاہر ہی ہے مگر میاں بشیر احمد صاحب کو مولوی عبدالسلام صاحب کا بیٹا خود کہہ گیا ہے کہ میں خلافت سے بدظن ہوں۔اور کہہ گیا ہے کہ آپ تو بڑھے ہوگئے ہیں، آپ کے ساتھ تو مستقبل کوئی نہیں۔میں جوان آدمی ہوں میرے سامنے بڑا مستقبل ہے میں نے اس کی فکر کرنی ہے۔گویا وہ بھی خلافت کا خواب دیکھ رہا ہے ) سیدی !۔۔۔۔غالباً سب سے پہلے ایسی بات جو مولوی صاحب موصوف نے مجھ سے کی وہ یہ تھی کہ میرا بڑا لڑکا جوز ہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا وہ دراصل مرزا خلیل احمد کی وجہ سے ہوا تھا کیونکہ وہ دونوں کمیونسٹ ہو چکے تھے۔حضرت صاحب نے اپنے لڑکے کو بچا لیا اور مجھے یہ کہہ کر اب اگر تم کیس کرو گے تو مسیح موعود کے خاندان کی بے عزتی ہوگی حالانکہ میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے مجھے بہت کہا تھا کہ کیس کرومگر میں نے اس واسطے نہیں کیا کہ مجھے حضرت صاحب نے بلا کر منع کیا تھا ( جھوٹ ہے لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) بہر حال میرالڑکا (یعنی مولوی عبد السلام کا حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا پوتا ) مسیح موعود کے پوتے کے لئے قربان ہو گیا۔اس دوران میں مولوی صاحب نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ جس وقت یہ کیس ہوا اُس وقت خلیل کی الماری اشترا کی لٹریچر سے بھری ہوئی تھی جس کو خود حضرت صاحب نے جلایا ( یہ بھی جھوٹ ہے۔البتہ یہ