انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 86

انوار العلوم جلد 26 86 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت پھرتے ہیں تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں گا کہ یہ سب کذب اور افتراء چودھری صاحب جیسے اور ان جیسے دیگر دشمنانِ احمدیت کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ احمدیوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔اس پر یک لخت چودھری برکت علی صاحب نے کہا کہ " وہ آپ کے خلیفہ اول کے لڑکے مولوی عبدالوہاب ہیں۔66 حضور ! مجھے اُس وقت ہرگز یقین نہیں آیا تھا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب کے متعلق جو باتیں چودھری برکت علی نے کی ہیں وہ سچ ہیں بلکہ یہی سمجھتا رہا کہ ان پر افتراء کیا جارہا ہے۔اور چونکہ تحقیق کے بغیر کسی پر عائد شدہ الزام کو پھیلانا اسلام میں ممنوع ہے میں آج تک خاموش رہا ہوں۔آج تیرہ سال کے بعد اس واقعہ کو حلفیہ طور پر بیان کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں 41 ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 1931ء ، 1932 ء میں احمد یہ ہوٹل کی رہائش کے زمانہ میں میاں عبدالوہاب احمد یہ بلڈنکس میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور اُن سے امداد بھی لیتے تھے۔جیسا کہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی گواہی سے ظاہر ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ :- اگر چہ 1926 ء سے لے کر آج تک مولوی عبدالوہاب صاحب کو ایک مرتبہ بھی منافقانہ خیالات کے میرے سامنے اظہار کی جرات نہیں ہوئی لیکن میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ اُن کی یہ بیماری نئی نہیں بلکہ جس زمانہ میں ہم کالج میں پڑھتے اور احمد یہ ہوٹل لاہور میں رہتے تھے تو وہ اُن دنوں بھی احمد یہ بلڈنگ میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور ان سے مالی امداد بھی لیا کرتے تھے حالانکہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ان کو بہت کافی مالی امداد با قاعدہ ملتی تھی۔یہ 1931ء،1932 ء کی بات ہے۔“ اسی کی تائید شیخ محمد اقبال صاحب تاجر کوئٹہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے جس کو ابھی بیان کیا