انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 58

انوار العلوم جلد 26 58 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت نے عاریتہ لی اور واپس نہ کی اور اس کے اوپر کتاب لکھی اور وہ بھی جامعہ احمدیہ کے پروفیسروں اور طالبعلموں کی مدد سے۔اور پھر اس کے بعد کہہ دیا کہ یہ عظیم الشان کام میں نے کیا ہے۔جب یہ ہوا تو ہمارے مولویوں کو غیرت پیدا ہوئی اور انہوں نے مجھے کہا کہ اس کتاب کو چھوڑیں ہم لکھ دیں گے۔میں نے کہا بشرطیکہ جلسہ سے پہلے لکھ دو۔چنانچہ بارہ دن ہوئے وہ مجھے اطلاع دے چکے ہیں کہ مسند احمد بن حنبل کی تبویب اُس سے زیادہ مکمل جس کا دعویٰ مولوی عبد المنان کرتے ہیں ہم تیار کر چکے ہیں۔اور اس لئے گو اس کی چھپوائی پر بڑی رقم خرچ ہوگی مگر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو جزو جزو کر کے شائع کر دیا جائے تا کہ پہلے اجزاء کی قیمت سے اس کے آخری اجزاء چھاپے جاسکیں اور حضرت خلیفہ اول کی خواہش پوری ہو جائے۔خود میں نے بھی اس کے متعلق 1944ء میں ایک تقریر کی ہوئی ہے اور تبویب کے متعلق بعض باتیں بیان کی ہوئی ہیں۔میں نے کہہ دیا ہے کہ ان کو بھی تبویب میں مدنظر رکھا جائے تا کہ وہ بہت زیادہ مفید ہو سکے۔اس بیماری کے بعد کئی باتیں مجھے اب تک پرانے زمانہ کی بھی یاد ہیں مگر کئی باتیں قریب کی کھولی ہوئی ہیں۔مجھے بالکل یاد نہیں تھا کہ 1944ء میں میں نے مسند احمد بن حنبل پڑھ کے اس کے متعلق تقریر کی ہوئی ہے کہ اس میں اِن اِن اصلاحوں کی ضرورت ہے۔اب ایک مبلغ آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی تو اس پر بڑی اعلیٰ درجہ کی ایک تقریر ہے جو " الفضل " میں چھپ چکی ہے۔چنانچہ اس نے وہ تقریر سنائی۔پھر مجھے یاد آیا کہ میں نے اس کتاب کو خوب اچھی طرح غور سے پڑھا ہوا ہے۔حضرت ابراہیم کے زمانہ حضرت آدم کے بعد پھر نئے دور روحانی کے آدم حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جن سے آگے اسحاقی اور اسمعیلی دور میں شیطان کا حملہ چلنا تھا۔اسحاق کی نسل سے موسوی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی اور اسمعیل کی نسل سے محمدی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پھر وہی آدم والی حکایت دُہرائی گئی۔چنانچہ شیطان نے پھر ایک نئے حملہ کی تجویز کی۔یہودی کتب میں لکھا ہے اور اشارہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد فوت ہو گئے اور اُن کے چچا جو ایک بت خانہ کے مجاور تھے اُن کے متولی بنے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی تو حید پر قائم کر دیا