انوارالعلوم (جلد 26) — Page 57
انوار العلوم جلد 26 57 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ جماعت سے نہ نکالیں؟ تو کہنے لگے اگر ایسا ہے تو پھر اس کو جماعت سے نکال دو۔ تو وہ لوگ جو آج بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہے اُن سے میں کہتا ہوں کہ یہ تو حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہے اور مولوی محمد احسن کے متعلق حضرت صاحب نے کسی خط میں لکھا ہے کہ یہ جو حدیث میں آیا تھا کہ مسیح موعود دوفرشتوں پر اُترے گا اُن میں سے ایک مولوی محمد احسن بھی ہیں ۔ اُس وقت تو جماعت نے اتنی ہمت کی کہ مولوی محمد احسن کو جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرشتہ قرار دیا تھا انہوں نے کہا کہ خلیفہ کے سامنے اگر فرشتہ بھی کھڑا ہوتا ہے تو نکالو ا سے ۔ حضرت خلیفہ اول بھی یہی کہا کرتے تھے کہ اگر تم فرشتے بھی بن جاؤ تو خلیفہ پر اعتراض کرنے پر تم پکڑے جاؤ گے۔ لیکن آج بعض کمزور دل کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہیں ان کو کچھ نہ کہو ۔ جماعت کو تباہ ہونے دو، مرزا صاحب کے سلسلہ کو تباہ تعلیم کو غلط ہونے صلى الله ہونے دو، محمد رسول اللہ ﷺ کے مشن کو نقصان پہنچنے دو، قرآن کریم کی تعلیم کو دو، اسلام کو کمزور ہونے دو۔ پر حضرت خلیفہ اول کی اولاد کو کچھ نہ کہو ۔ گویا حضرت خلیفہ اول کی اولا د محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ قرآن سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ اسلام سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعود سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعودؓ کے خاندان سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعود کے الہامات سے بھی زیادہ معزز ہے۔ ان کو کچھ نہ کہو سلسلہ کو تباہ ہونے دو۔ قرآن کریم کی تعلیم کو غلط ہونے دو۔ خلافت کو مٹنے دو۔ خدا کے کلام کو غلط ثابت ہونے دو مگر یہ کام نہ کرو۔ تو کچھ لوگوں نے تو یہ کہا۔ چنانچہ مری میں جب ایک صاحب کو پتا لگا کہ میں ایک اشتہار لکھ رہا ہوں تو کہنے لگے نہ، نہ، نہ، نہ۔ آپ نے 25 سال ان کو معاف کیا ہے اب بھی معاف کر دیجئے۔ میں نے کہا مجھے 25 سال معاف کرنے کی سزا ہی تو مل رہی ہے۔ اگر میں ان کو 25 سال معاف نہ کرتا اور 1926ء میں ہی ان کو کیڑے کی طرح باہر نکال کے پھینک دیتا تو آج ان کو یہ کہاں ہمت ہوتی ۔ یہ "مولانا" بنے ہمارے وظیفے کھا کھا کے۔ یہ طبیب بنے سلسلہ سے وظیفے لے لے کر۔ اور اب ان کو یہ جرات پیدا ہو گئی کہ کہہ دیا کہ "حضرت مولانا نے مسند احمد بن حنبل کی تبویب کی ہے۔ حالانکہ مسند احمد بن حنبل کی تبویب کا کچھ حصہ حضرت خلیفہ اول نے کیا ہو اتھا ۔ وہ فہرست لائبریری سے مولوی عبدالمنان