انوارالعلوم (جلد 26) — Page 52
انوار العلوم جلد 26 52 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت اور وزیر تعلیم خود ہمارے جلسہ میں آیا جس میں وہ کتاب پیش کی گئی تھی۔اس کے بعد میں ایک اور خوشخبری سناتا ہوں کہ کچھ دن ہوئے مجھے خواب آئی کہ جنوبی ہندوستان میں خدا کے فضل سے ہندوؤں میں تبلیغ پھیلنی شروع ہوگئی ہے اور اتنی پھیل گئی ہے کہ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے دتی کی حکومت کو لکھا ہے کہ آپ لوگوں کا سلوک احمدیوں سے اچھا نہیں ہے یا تو اپنا رویہ بدلیں ورنہ ہم اس پر کوئی مناسب کارروائی کریں گے۔وہ زمانہ بھی آئے گا انْشَاءَ اللَّهُ تَعَالیٰ۔لیکن فی الحال ہندوؤں کی تو نہیں مسلمانوں کی خبر آئی ہے۔ایک دوست کا خط آیا ہے کہ یہاں ایک علاقہ ہے جس میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان ہیں ان میں کثرت کے ساتھ لوگ احمدی ہونا چاہتے ہیں۔تو یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایک نیا راستہ کھولا ہے۔پھر یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ لکشادیپ (Lakshadweep) مالدیپ کے جزائر میں سے ایک جزیرہ میں احمد یہ جماعت قائم ہوئی ہے اور وہاں دار التبلیغ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس ذریعہ سے ان جزائر میں بھی جماعت پھیل جائے گی۔غرض اللہ تعالیٰ خود اُن علاقوں میں جہاں ہم نہیں جا سکتے کام کر رہا ہے۔چنانچہ ایک سکھ رئیس کی بیعت آئی ہے جس نے خواب کے ذریعہ سے بیعت کی ہے اور اسلام قبول کیا ہے۔وہ مشرقی پنجاب کا رہنے والا ہے۔اس نے خواب دیکھی اور خواب کے ذریعہ سے بیعت کی ہے۔جرمنی سے ایک پادری کے مسلمان ہونے کی خبر آئی ہے جس نے اپنی زندگی بھی وقف کی ہے۔وہ یہاں آ کر دینِ اسلام سیکھے گا۔امریکہ سے ایک تازہ خبر آئی ہے۔لکھا ہے کہ یہاں بھی ایک پادری مسلمان ہوا ہے۔اور ایک نئے شہر میں جہاں پہلے جماعت نہیں تھی احمدی ہو گئے ہیں جس سے وہاں بھی جماعت بننے کا امکان ہے تو اللہ تعالیٰ ہر جگہ جماعتیں قائم کر رہا ہے۔میں نے شروع میں کہا تھا دیکھو! خدا تعالیٰ نے کس طرح وہ بات پوری کی میں نے کہا تھا کہ قرآن نے بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے نظام دین سے الگ ہو جائے گا تو اس کی جگہ ایک جماعت آئے گی۔دیکھو ان لوگوں کے نکلنے کے بعد خدا نے کئی ہزار نیا احمدی ہم کو دیا ہے اور ایسے ایسے لائق آدمی ہم کو دیے ہیں جیسے یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور پادری وغیرہ کہ جن کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔یہ بھی خبر آئی ہے کہ انڈونیشین زبان میں