انوارالعلوم (جلد 26) — Page 48
انوار العلوم جلد 26 48 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ۔۔۔۔۔۔ چھ ہزار جماعت سے چندہ کی تحریک کروں گا۔ ہماری جماعتیں اب خدا کے فضل سے اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ افریقہ کے جو نئے حبشی ہیں اُن میں سے ایک شخص نے پندرہ سو پاؤنڈ مسجد کے لئے دے دیا یعنی بیس ہزار روپیہ۔ حالانکہ وہ شخص ایسا تھا جو پہلے کہتا تھا کہ دریا رُخ بدل لے تو بدل لے مگر میں نہیں مسلمان ہونے کا۔ وہ شخص مسلمان ہوتا ہے اور اپنی خوشی سے پندرہ سو پاؤنڈ یعنی بیس ہزار ار روپیہ لا کر دے دیتا ہے۔ اُس ملک میں تو لوگ غریب ہیں۔ ہماری جماعت میں یہاں بڑے بڑے امیر ہیں ان سے چھ ہزار یا دس ہزار یا ہیں ہزار سالانہ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ خواہش پوری کرنا کہ ریویو کی دس ہزار اشاعت ہو جائے کون سا مشکل امر ہے۔ پس اس سال وہ تین ہزار اشاعت کر دیں ۔ اگلے چھ مہینے تک ہم اسے چھ ہزار کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن وہ ایک مینیجر مقرر کریں جو قیمتیں وصول کرے۔ اس سے پہلے ان سے غفلت ہوتی رہی ہے اور قیمتیں صحیح نہیں وصول ہوئیں۔ اگلے جلسہ سالانہ تک ہم إِنْشَاءَ اللهُ دس ہزار شائع کریں گے۔ کچھ لوگوں سے قیمت وصول کریں گے، کچھ جماعت سے وصول کریں گے، کچھ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک سے وصول کریں گے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کو ہم اگلے سال خدا چاہے تو ضرور پورا کر دیں گے۔ اس سال اس خواہش میں قدم بڑھانے کے لئے ہم تیسرا حصہ ادا کرتے ہیں اور چھ مہینہ تک ہم إِنْشَاءَ اللہ نصف سے زیادہ کر دیں گے اور خدا تعالیٰ زندہ رکھے اور توفیق دے تو اگلے سال اِنْشَاءَ اللہ ہم دس ہزار کی خواہش پوری کر دیں گے۔ اور کوشش کریں گے کہ اس سے اگلے سال حضرت صاحب کی خواہش سے دُگنی تعداد ہو جائے یعنی ہیں ہزار ہو جائے ۔ اس طرح بڑھاتے بڑھاتے ہمارا پروگرام یہ ہوگا کہ حضرت صاحب نے دس ہزار کہا تھا ہم لاکھ تک اس کی خریداری پہنچا دیں ۔“ اس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ :۔ محمد صدیق صاحب کلکتہ والے لکھتے ہیں کہ رسالہ ریویو انگریزی کے لئے یک صد رسالہ کا چندہ مبلغ دو صد روپیہ میں اپنی طرف سے دینے کا وعدہ کرتا ہوں ۔ خدا تعالیٰ نے ان کو توفیق دی ہے۔ إِنْشَاءَ الله ثواب ہوگا۔ میری نیت بھی چندہ دینے کی ہے اور اِنْشَاءَ اللهُ اِس سے زیادہ ہی دوں گا۔