انوارالعلوم (جلد 26) — Page 45
انوار العلوم جلد 26 45 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت باقی سٹوڈنٹ کہتے ہیں کہ ہمیں جلدی بیعت فارم بھیجو۔ابھی انہوں نے 100 بیعت فارم کے متعلق لکھا ہے کہ جلدی بھیجو سب لڑکے تیار ہورہے ہیں۔اب جس ملک کے کالج کے لڑکے مسلمان ہو جائیں گے سیدھی بات ہے کہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر مقرر ہوں گے اور جہاں جائیں گے اسلام کی تبلیغ کریں گے کیونکہ اسلام چیز ہی ایسی ہے کہ جو ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیتا ہے پھر وہ چپ نہیں رہ سکتا۔میرے دوست دوست پروفیسر ٹلٹاک اِس وقت یہاں بیٹھے ہیں جب میں بیماری میں علاج کرانے کے لئے گیا تو ہیمبرگ میں بھی گیا۔مولوی عبداللطیف صاحب جو ہمارے مبلغ ہیں وہ ان کو لائے اور کہنے لگے یہ پروفیسر ٹلٹاک ہیں ان کو اسلام کا بڑا شغف ہے۔یہ کیل (KIEL) میں یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔آپ کا ذکر سن کر کیل سے آئے ہیں مگر کہتے ہیں میں نے الگ بات کرنی ہے۔میں نے کہا بڑی خوشی سے الگ بلالو اور لوگ چلے جائیں۔چنانچہ وہ آگئے۔انہوں نے تھوڑی دیر بات کی اور پھر کہنے لگے میں نے بیعت کرنی ہے۔میں نے کہا بہت اچھا کر لیجئے۔میں نے پوچھا کہ اسلام سمجھ لیا ہے؟ کہنے لگے ہاں میں نے سمجھ لیا ہے۔مگر کسی کو پتا نہ لگے میں بڑا مشہور آدمی ہوں۔میں نے کہا بہت اچھی بات ہے۔ہمیں آپ کو مشہور کرنے کا کیا شوق ہے۔آپ کی خدا سے صلح ہوگئی کافی ہے۔چنانچہ اس کے بعد پاس کے کمرہ میں کچھ جرمن دوست نماز پڑھنے کے لئے آئے تھے۔میں نماز پڑھانے کے لئے اُس کمرہ میں گیا۔جب نماز پڑھ کے میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ صف کے آخر میں وہ پروفیسر ٹلٹاک بیٹھے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ میرا کسی کو پتا نہ لگے۔میں نے مولوی عبداللطیف صاحب سے کہا کہ پروفیسر صاحب سے ذرا پوچھو کہ آپ تو کہتے تھے کہ میرے اسلام کا کسی کو پتا نہ لگے اور آپ تو سارے جرمنوں کے سامنے نماز پڑھ رہے ہیں تو اب تو پتا لگ گیا۔کہنے لگے میں نے پوچھا تھا۔یہ کہنے لگے میں نے سمجھا کہ یہاں ان کے آنے کا کیا واسطہ تھا، خدا انہیں میری خاطر لایا ہے تو اب خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع جو خدا نے مجھے میسر کیا ہے یہ ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے چنانچہ نماز پڑھ لی۔اب یا تو وہ وہاں کہتے تھے کہ میرا اسلام ظاہر نہ ہو اور یا یہاں آ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔66