انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 616

انوار العلوم جلد 26 616 جلسہ سالانہ قادیان ( 16 تا 18 دسمبر 1960ء) کیلئے روح پرور پیغام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ برادران بھارت ! اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پیغامات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ہمیں قادیان سے گئے ہوئے تیرہ سال ہو گئے ہیں اور تیرہ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔یہ زمانہ اپنی صعوبتوں اور مشکلات کے لحاظ سے ایک بڑا لمبا اور پُر فتن دور تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ آپ نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھا اور حضرت مسیح موعود کے لائے ہوئے پیغام کولوگوں کے کانوں تک پہنچایا۔مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ آئندہ بھی آپ لوگوں کیلئے ہمیشہ خیر و برکت کے سامان پیدا کرتا چلا جائے گا اور وہ مشکلات جو ابھی پائی جاتی ہیں ان کو بھی دور فرما دے گا۔یہ امر یاد رکھو کہ قادیان ہمارا مرکز اور خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اور مرکز میں رہنے والوں اور مقدس مقامات کی زیارت کی غرض سے باہر سے آنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسلام کا عملی نمونہ بنیں اور اپنی عبادتوں اور دعاؤں اور بلند اخلاق کے ذریعہ دوسروں کیلئے بھی ہدایت اور رہنمائی کا موجب بنیں اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو کسی کمزور انسان کیلئے ٹھوکر کا موجب ہو۔پس اپنی ان تمام ذمہ داریوں کو احسن طریق پر ادا کرو جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تم پر عائد ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر یقین رکھو۔یہودی قوم اسلام کی شدید دشمن ہے مگر میں اُسے داد دیتا ہوں کہ اس نے 2300 سال صبر کیا اور آخر اپنا مقدس مرکز پالیا۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے افراد کو بھی اس امر کی توفیق عطا فرمائے