انوارالعلوم (جلد 26) — Page 584
انوار العلوم جلد 26 احباب جماعت کے نام 584 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیغامات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادران جماعت احمدیہ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میں نے اس سال 27 دسمبر کو ارشاد و اصلاح کی ایک اہم تجویز پیش کی تھی جس کے دو حصے تھے ایک وقف اور ایک چندہ۔چندہ میں نے کہا تھا گو لازمی نہیں لیکن ہر احمدی کوشش کرے کہ چھ روپے چندہ سالانہ یکمشت یا بارہ اقساط میں دیا کرے۔ہماری جماعت میں آسانی سے ایک لاکھ آدمی ایسا پیدا ہو سکتا ہے۔اور اگر وہ ایسا کریں تو رشد و اصلاح کی تحریک کو ہم بڑی آسانی کے ساتھ ڈھاکہ سے کراچی تک اور کراچی سے ملتان اور لاہور ہوتے ہوئے راولپنڈی کے راستہ سے پشاور اور ہزارہ کی وادیوں میں پھیلا سکتے ہیں۔وقف کی تحریک گودیر سے شروع ہوئی مگر خدا کے فضل سے شروع ہوگئی ہے۔میرے اس خطبہ کے بعد پانچ درخواستیں آچکی ہیں جن میں سے دو مولوی فاضل اور میٹرک ہیں اور ایک معمولی تعلیم کا آدمی ہے۔میں نے جلسہ میں بتایا تھا کہ ہم پانچویں جماعت کے آدمی کو بھی اس کام کے لئے لے سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ایسا نو جوان کسی زیادہ تعلیم یافتہ آدمی کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔مدرسہ احمدیہ میں جو اردو کا کورس شروع ہے اس کے مکمل ہونے میں ابھی پانچ سال لگیں گے جس کے بعد انْشَاءَ اللهُ پچاس طالب علم ہمیں مل جائیں گے۔پرائمری پاس ہماری جماعت میں اب بھی پچاس ساٹھ ہزار آدمی موجود ہے لیکن وہ آگے نہیں بڑھ رہا اور سستی دکھا رہا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو چیلنج کر رہا ہے کہ اُس کو بدل کر اُس کی جگہ اور آدمی پیدا کرے۔مگر چندہ کا معاملہ جو وقف سے بہت سستا تھا اس کے لئے ایک درخواست بھی نہیں آئی۔حالانکہ ایک لاکھ آدمی کی درخواست کی ضرورت تھی۔