انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 548

انوار العلوم جلد 26 548 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش اسلام۔۔کے قدموں میں حوض کوثر پر لے جاؤ اور انہیں گندی زیست سے نجات دلانے اور اُن کے اندر ایمان کی حرارت پیدا کرنے کے لئے کا فوری اور زنجبیلی جام پلا ؤ اور اس سانپ کا سر ہمیشہ کے لئے کچل دو جس نے آدم کی ایڑی پر ڈسا تھا اور اُسے جنت ارضی سے نکال دیا تھا۔اس وقت ہماری جماعت میدانِ جہاد میں کام کر رہی ہے۔اور وہی فوج دشمن کا دلیری سے مقابلہ کر سکتی ہے جس کی صفوں میں انتشار نہ ہو۔قرآن کریم نے اس کی اہمیت پر بڑا زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ مومنوں کی جماعت جب دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوتی ہے تو اس کی کیفیت بنیان مرصوص کی سی ہوتی ہے۔یعنی وہ ایک ایسی دیوار کی طرح ہوتے ہیں جس کی مضبوطی کے لئے اُس پر سیسہ پگھلا کر ڈالا گیا ہو ئے۔پس اختلافات کو کبھی اپنے قریب بھی نہ آنے دو۔ہر شخص جو کسی جماعت میں تفرقہ کا بیج بوتا اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے وہ احمدیت کا بدترین دشمن ہے۔اور تمہیں اُسی طرح تباہی کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے جس طرح گزشتہ دور میں مسلمان صدیوں تک تنزل کا شکار رہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا ہے کہ دنیا ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو۔پس ہر شخص جو اتحاد میں رخنہ اندازی کرتا ہے ، ہر شخص جو اس سکیم کے راستہ میں روک بنتا ہے وہ خدائی ناراضگی کا نشانہ بنتا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ رویا کے ذریعہ بھی اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔چنانچہ میں نے ایک شخص کو جسے میں کوئی بادشاہ یا رئیس سمجھتا ہوں اور جو میرے سامنے بیٹھا تھا ر دیا میں کہا کہ دیکھو جو شخص ایسے نازک وقت میں بھی اتحاد کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گردن اونچی کس طرح کر سکے گا۔“ جب میں نے یہ فقرہ کہا تو میرے دل میں بہت زیادہ جوش پیدا ہو گیا اور رقت کے ساتھ میرے گلے میں پھندا پڑ گیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے اپنے سامنے کے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا