انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 535

انوار العلوم جلد 26 535 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش کرو جب اسلام کا جھنڈ ا ساری دنیا میں اپنی پوری شان سے لہرانے لگے (سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی املاء کردہ ی تقریر مورخہ 23 دسمبر 1961ء کو حضور کی زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنائی۔) اشهَدُ اَنْ لَا إِلَهَ الّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْاْ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ الغَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔احباب کو معلوم ہے کہ میری طبیعت ایک لمبے عرصہ سے ناساز چلی آرہی ہے جس کی وجہ سے اب میرے جسم میں ایسی طاقت نہیں کہ میں سابق دستور کے مطابق کوئی لمبی تقریر کرسکوں۔مگر اس لئے کہ جماعت کے دوست اس سردی کے موسم میں سخت تکلیف اٹھا کر دور دور سے تشریف لائے ہوئے ہیں میں نے مناسب سمجھا کہ میں احباب کی توجہ کے لئے چند باتیں بیان کر دوں۔مجھے1914ء میں جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تو اُس وقت جماعت کی یہ حالت تھی کہ غیر مبایعین علی الاعلان کہ رہے تھے کہ پچانوے فیصدی جماعت اُن کے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی جماعت نے ابھی خلافت تسلیم کی ہے۔اُن دنوں مخالفت کا ایک دریا تھا جو انڈا چلا آرہا تھا۔انجمن کا خزانہ خالی پڑا تھا اور بڑے بڑے کا رکن جن کا