انوارالعلوم (جلد 26) — Page 506
انوار العلوم جلد 26 506 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1960ء دین کے راستہ پر قائم رکھنے کے لیے کیوں مضطرب نہیں ہوتے اور کیوں وہ دیوانہ واراس کے لئے جد و جہد نہیں کرتے۔یہ امر یا د رکھو کہ ہمارے سپر د خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑی امانت کی ہے۔اس زمانہ میں جبکہ ایمان ثریا پر جاچکا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پھر اسلام کو زندہ کیا اور اُس نے آپ لوگوں کے ذریعہ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچایا بلکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرایا۔اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اگلی نسل کو بھی اس امانت کا اہل بنائیں۔اور اُس کے اندر دین سے شغف اور محبت پیدا کریں تا کہ وہ بھی نمازوں اور دعاؤں اور ذکرِ الہی کی پابند ہو اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے والی ہو۔مگر یہ کام ہم اپنے زور سے نہیں کر سکتے صرف خدا ہی ہے جو اصلاح نفس کے سامان پیدا کیا کرتا ہے۔پس اپنے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنی اولادوں کے لئے بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں سچا ایمان پیدا کرے۔اور انہیں دین کی ایسی محبت عطا کرے کہ کوئی دنیوی تعلق اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے تاکہ ہماری زندگی ہی پُر مسرت نہ ہو بلکہ ہماری موت بھی خوشی کی موت ہو۔ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے اب 72 سال کا طویل عرصہ ہو چکا ہے اور یہ صدی اب ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے مگر ابھی تک ہماری جماعت کی تعداد بہت کم ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ کے مربیوں ، تحریک جدید کے مبلغوں اور وقف جدید کے معلموں اور پھر انفرادی جد و جہد کے ذریعہ ہر سال بیعتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر پھر بھی دنیا کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ہماری تعداد بھی ایسی نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔اس لئے ہمیں بہت زیادہ فکر اور توجہ کے ساتھ اپنی کوششوں کا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری زندگیوں میں ہی دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔بے شک ہم کمزور اور بے سامان ہیں مگر ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے اس لئے ہمیں اُسی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ الہی ! تیری مدد آسمان سے کب نازل ہوگی ؟ تو آسمان سے اپنے ملائکہ کی فوج نازل فرما تا کہ وہ سعید دلوں پر اُتریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کا والہ وشیدا