انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 492

انوار العلوم جلد 26 492 افتتاحی و اختتامی خطاب جلسہ سالانہ 1959ء طرف سے آپ کا کرشن نام رکھنا بتا تا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوؤں پر بھی غالب آجائیں گے اور يَكْسِرُ الصَّلِيْب بتاتا ہے کہ ہم ساری دنیا کے عیسائیوں سے بھی بڑھ جائیں گے۔پس جو لوگ ہجرت کے بعد پاکستان آگئے ہیں وہ پاکستان میں احمدیت کو پھیلانے کی کوشش کریں۔اور جو لوگ ہندوستان میں رہتے ہیں وہ ہندوستان میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں۔اور بیرونی ممالک کے مبلغین یورپ اور امریکہ میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ ساری دنیا احمدی ہو جائے کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے غلام ہیں کسی ملک یا قوم کے طرفدار نہیں۔لطیفہ مشہور ہے کہ کسی راجہ نے ایک دن بینگن کا بھرتہ کھایا جو اُ سے بڑا مزیدار معلوم ہوا اور اُس نے دربار میں آکر تعریف کی کہ بینگن بڑا مزیدار ہوتا ہے۔اس پر ایک درباری کھڑا ہو گیا اور اُس نے بینگن کے فوائد گنوانے شروع کر دیئے اور کہا کہ حضور! طب کی کتابوں میں اس کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے اور وہ بھی لکھا ہے۔اور آخر میں کہنے لگا جناب ! اس کی شکل بھی تو دیکھیں کہ کیسی پاکیزہ ہے۔جب یہ بیل سے لٹکا ہوا ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کہ کوئی صوفی منش بزرگ سبز جامہ پہن کر گوشتہ تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہے۔مگر پھر چند دن راجہ نے مسلسل بینگن کھائے تو اُسے بواسیر کی شکایت ہو گئی۔اور اس نے دربار میں آکر کہا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ بینگن اچھی چیز ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اچھی چیز نہیں ہے۔اس پر وہی درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور ! بینگن بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔طبی کتابوں میں اس کی یہ خرابی بھی لکھی ہے اور وہ خرابی بھی لکھی ہے۔اور پھر کہنے لگا حضور! اس کی شکل بھی تو دیکھیں کہ کیسی منحوس ہے۔یہ بیل سے لٹکا ہوا یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اور اس کا منہ کالا کر کے اسے پھانسی پر لٹکا یا ہوا ہو۔کسی نے اسے کہا کہ کمبخت ! پہلے تو تو نے اس کی اتنی تعریف کی تھی اور آج اتنی مذمت کر رہا ہے۔وہ کہنے لگا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں۔ہم بھی خدا کے نوکر ہیں کسی بندے یا قوم کے نو کر نہیں۔جدھر ہما را خدا ہوگا اُدھر ہی ہم ہوں گے۔