انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 486

انوار العلوم جلد 26 486 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء یعنی اگر مونٹی ور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔اگر موسی اور عیسی جیسے نبیوں کو بھی محمد رسول اللہ کی اطاعت کے بغیر چارہ نہ تھا تو اُن کی امتوں پر آپ کی اطاعت کیوں لازمی نہ ہوگی۔پس آپ کو ہمت دکھانی چاہئے اور پھر دعائیں بھی کرنی چاہئیں کیونکہ محض ہمت سے کچھ نہیں بنتا۔اصل چیز دعا ہی ہے۔پس دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے چپہ چپہ پر احمدیت پھیلا دے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہو جائے اور اسلام دنیا پر اتنا غالب آجائے گا کہ باقی لوگ حقیر اور ذلیل ہو کر رہ جائیں گے۔اگر چار پانچ ہزار سال تک آپ لوگ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے کوشش کرتے رہیں تو امید ہے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر احمدیت پھیل جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ تبلیغ اسلام کا کام صرف ایک نسل کا نہیں بلکہ ہم سب کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا 4 اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ابھی صرف 52 سال ہوئے ہیں اور صرف پہلی نسل گزر رہی ہے۔اگر موسی کی امت تین ہزار چارسو سال تک اپنے مذہب پر قائم رہ سکتی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کیوں اس سے زیادہ عرصہ تک اسلام پر قائم نہیں رہ سکتی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے داؤ بھی قرار دیا ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار 5 اس کے معنے یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں بھی حضرت داؤڈ کی شان جیسے آدمی پیدا ہوں گے اور دنیا میں ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اور جسمانی اولاد پھیل جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو وفات پاچکے ہیں۔اب یہ ہم لوگوں کا جو اُن کی جماعت میں سے ہیں کام ہے کہ ہم آپ کے نام اور اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا موسی اور۔