انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 485

انوار العلوم جلد 26 485 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدو جہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تا کہ قیامت تک خلافت احمد یہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔اے خدا ! تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما - اللهُمَّ امِيْنَ اللَّهُمَّ آمِيْنَ - اَللَّهُمَّ امِيْنَ۔یہ اقرار جو اس وقت آپ لوگوں نے کیا ہے اگر اس کے مطابق قیامت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اور روحانی اولا دا شاعت اسلام کے کام میں مشغول رہے تو یقیناً احمد بیت تمام دنیا پر چھا جائے گی اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے گا۔دیکھو! حضرت مسیح کے زمانہ پر 1959 سال گزر چکے ہیں مگر مسیحی اب تک اپنے مذہب پر قائم ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر تو ابھی بہت تھوڑی مدت گزری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1908 ء میں فوت ہوئے اور اب 1960ء ہے۔گویا آپ کی وفات پر ابھی صرف 52 سال گزرے ہیں۔اسی طرح یہودیوں کو لو تو اُن کے زمانہ پر تین ہزار چارسو سال گزر چکے ہیں مگر پھر بھی وہ یہودیت پر قائم ہیں اور اُن کے استقلال کو دیکھ کر عیسائی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔چنانچہ جب نہر سویز کا جھگڑا پیدا ہوا اور مسلمانوں نے یہودیوں کو روکا تو انگریزوں نے جو عیسائی ہیں یہودیوں کی مدد کی۔آپ لوگ تو محمدی مسیح کے تابع ہیں اور محمد رسول اللہ موسی سے اور آپ کا موعود خلیفہ مسیح موعود مسیح ناصری سے بہت بڑھ کر تھا۔اگر آج ساری دنیا میں مسیح ناصری کی حکومت قائم ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کیوں قائم نہیں ہو سکتی۔جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِيْ