انوارالعلوم (جلد 26) — Page 444
انوار العلوم جلد 26 444 سیر روحانی (12) دیا کہ میں نے خواب میں یوں دیکھا ہے اس لئے تم ذبح ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ بلکہ آپ نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹے ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔فَانْظُرُ مَا ذَا تَری 21 آب تو سوچ کر مجھے اپنی رائے دے۔یہ نہیں کہا کہ مجھے خواب آئی ہے تو لیٹ جاتا کہ میں تجھے ذبح کروں بلکہ فرمایا کہ تو مجھے اپنی رائے دے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے اندر خود داری کی رُوح پیدا کرنا قرآنی اصول ہے۔جو لوگ اپنی اولاد کے اندر خود داری کی رُوح پیدا نہیں کرتے وہ اپنی اولاد کو ہی نہیں بلکہ قوم کو بھی ترقی سے روک دیتے ہیں۔کیونکہ قوم کی آئندہ ترقی اولاد کے اندر خودداری کی رُوح قائم رکھنے پر منحصر ہے۔ڈسپلن (DISCIPLINE) پیدا کرنا اور چیز ہے لیکن خودداری کی رُوح بالکل اور چیز ہے۔خود داری کے نہ ہونے کے یہ معنے ہیں کہ فطرت کو مار دیا گیا ہے۔اور ڈسپلن کے معنی یہ ہیں کہ خودداری کو منظم کیا جائے۔اور اسلام ڈسپلن کے خلاف نہیں۔وہ یہ چاہتا ہے کہ ڈسپلن قائم کیا جائے مگر وہ اس بات کے خلاف ہے کہ خودداری کی رُوح کو کچل دیا جائے۔اگر خودداری کی رُوح کو کچل دیا جائے تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس مضمون پر ( قادیان میں ) میں نے ایک لیکچر دیا تھا۔بعض لوگ باتوں کو بڑی عمدگی سے یادر کھتے ہیں۔اگلا جلسہ آیا تو ایک شخص اپنا بیٹا ساتھ لایا اور اُس کے متعلق کہنے لگا کہ آپ نے یہ بات پیش کی ہے۔میں نے کہا۔آپ اس بچے کو آپ کہہ رہے ہیں۔اُس نے کہا آپ نے ہی تو ایسا کرنے کی تلقین کی تھی۔آپ نے کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ ادب سے بات کرنی چاہئے کیونکہ بچے ماں باپ کی نقل کرتے ہیں۔چنانچہ آپ نے انگریزوں کی مثال بھی دی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو مدر (MOTHER) کہتے ہیں تا کہ بچہ بھی مدد کہنے لگ جائے۔اُن کا نقطہ نگاہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو وائف (WIFE) کہیں گے تو چونکہ بچہ ماں باپ کی نقل کرتا ہے اس لئے وہ بھی اپنی ماں کو وائف کہے گا۔پس وہ اپنی بیوی کو مدر (MOTHER) کہتے ہیں تا کہ بچے کے دل میں بھی اپنے ماں باپ کے متعلق ادب کا جذبہ پیدا ہو۔۔قرآن کریم میں جمہوریت کے اصول پھر جمہوریت ایک ایسا علم ہے جس پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی