انوارالعلوم (جلد 26) — Page 401
انوار العلوم جلد 26 401 ساتھ دھوکا بازی کی اور انہوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی جو ہماری جماعت کے ایک بڑے مخلص دوست تھے میاں چٹو کے پوتے تھے۔میاں چٹو مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کے معتقد تھے مگر بعد میں انہیں پتا لگا کہ اس میں کوئی اخلاقی نقص ہے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ جس شخص کے اخلاق خراب ہیں اسے یہ حق کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے چنانچہ وہ ان سے الگ ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ دلوں کو پھیرتا رہتا ہے اور کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے پس خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور اُسی پر ساری امیدیں رکھنی چاہئیں کیونکہ اس سے زیادہ مہربان اور طاقت ور اور کوئی نہیں۔اِسی طرح جماعت کو تحریک جدید کی طرف بھی خاص توجہ کرنی چاہئے۔اگر اس کا چندہ بڑھ جائے تو ہمیں دنیا کے ہر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق مل جائے گی اور اس طرح ہم اسلام کا جھنڈا دنیا کے ہر کونہ میں گا ڑسکیں گے۔غیر ممالک میں اشاعت اسلام کا کام تحریک جدید کے سپرد ہے اور یہ کام اتنا وسیع ہے کہ جماعت کی خاص توجہ کے بغیر اسے کامیابی سے چلانا مشکل ہے۔اسلام کو دنیا میں پھر سے غالب کرنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہے اس لئے اسے اس سلسلہ میں ہمیشہ مالی اور جانی قربانیوں میں پورے جوش سے حصہ لینا چاہئے تا کہ ہم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔کل انشاء اللہ دوسری تقریر ہوگی۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو زیادہ سے زیادہ جلسہ سے مستفیض ہونے کی توفیق بخشے۔“ ( الفضل 3 را پریل 1959 ء ) 1 تاريخ طبرى الجزء الثالث صفحہ 247 تا 249 مطبوعہ بیروت 1987ء 2: البقرة:262