انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 400

انوار العلوم جلد 26 400 ہے تو وہ آپ ہی آپ سامان پیدا کر دیتا ہے۔میں دار الحمد میں رہتا تھا اور ایک دن میرا ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ایک آدمی با ہر آیا ہوا ہے اور وہ کہتا ہے میں نے ضروری ملاقات کرنی ہے۔میں جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک لڑکا کھڑا تھا۔اُس نے کہا میں آپ سے ملنے آیا ہوں میرے پاس عبد الاحد پٹھان جواب قادیان میں رہتے ہیں کھڑے تھے انہوں نے جھٹ اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اس نے آپ کو مارنے کے لئے خنجر چھپایا ہوا ہے۔میں نے کہا تمہیں کیسے پتا لگا ؟ اس نے کہا میں پٹھان ہوں اور ہم میں دستور ہے کہ ہم خنجر اپنے نیفے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ یہ لڑ کا ایک خاص طرز پر اپنی ٹانگ ہلاتا تھا۔میں نے سمجھ لیا کہ اس کے نیفے میں ضرور کوئی چیز ہے۔چنانچہ میں نے ہاتھ مارا تو مجھے اک سخت سی چیز محسوس ہوئی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔تو اللہ تعالیٰ بچانے پر آئے تو بڑے بڑے دشمنوں کو بھی نا کام کر دیتا ہے۔یہ انسان کی غلطی ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے میری تدبیروں سے ہوگا حالانکہ انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کسی کا دل بدل سکے۔ہاں اللہ تعالیٰ دوسروں کے دل بدل سکتا ہے۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کیسے کیسے دشمن تھے مگر بعد میں وہ آپ کے بڑے جاں نثار ثابت ہوئے۔مجھے یاد ہے کہ لکھنو میں ایک عرب آیا۔لوگ اس کی بڑی خاطر تواضع کرتے تھے کہ یہ بغداد شریف سے آیا ہے۔میاں چٹو اہلِ قرآن کے لیڈر ہوتے تھے۔وہ اسے قادیان لے آئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن شریف میں یوں لکھا ہے اور آپ نے ق کو پنجابی لہجہ میں ادا کیا۔اس پر عرب کہنے لگا آپ کو کس نے مسیح بنایا ہے آپ توق بھی نہیں بول سکتے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید اُس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فوراً اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔پاس ہی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھے ہوئے تھے آپ نے انہیں فرمایا کہ ان کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیں اور جب تک مجلس برخاست نہ ہو جائے ان کا ہاتھ نہ چھوڑیں۔چنانچہ انہوں نے آپ کا ہاتھ پکڑے رکھا۔بعد میں اس نے میاں چٹو کے