انوارالعلوم (جلد 26) — Page 398
انوار العلوم جلد 26 اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔398 حضرت خلیفۃ المسیح اول سنایا کرتے تھے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک رئیس آیا جو شراب کا عادی تھا۔میں نے اسے بہت سمجھایا کہ شراب چھوڑ دو مگر وہ کہتا تھا کہ مجھ سے شراب چھوڑی نہیں جاتی۔اس نے کہا مجھے حضرت صاحب سے ملا دو۔چنانچہ میں نے اس کی ملاقات کا انتظام کروا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ دار الفکر میں لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر نکلا تو اُس کی آنکھیں سُوجی ہوئی تھیں۔آپ فرماتے تھے میں نے کہا تمہیں کیا ہوا ؟ کہنے لگا آپ نے مجھے اتنی نصیحت کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا لیکن مرزا صاحب نے صرف چند لفظ کہے تو میری چیخیں نکل گئیں اور آج سے میں نے عہد کر لیا ہے کہ آئندہ کبھی شراب نہیں پیوں گا۔حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں جو اثر ہوسکتا تھا وہ میرے کلام میں کہاں ہوسکتا تھا۔اور یہ سچی بات ہے کہ جو فرق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول کے کلام میں تھا اُس سے لاکھوں گنا فرق آپ لوگوں کے کلام اور قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔آپ لوگ اگر کسی کو وعظ ونصیحت کریں گے تو اتنا اثر نہیں ہو سکتا لیکن اگر قرآن اسے پڑھنے کے لئے دیں گے تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوگا۔غرض لوگوں تک حق پہنچانے اور ان کے دل نرم کرنے کا یہ سب سے بہتر ذریعہ ہے۔قرآن کریم میں حُبّ وطن کا بھی ذکر آتا ہے۔تہذیب و تمدن کا بھی ذکر آتا ہے۔اپنے ہمسایوں پر رحم کرنے کا بھی ذکر آتا ہے۔غیر مذاہب کے لوگوں سے ہمدردی کرنے کا بھی ذکر آتا ہے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص قرآن پڑھے اور پھر دوسرے پر سختی کرے۔ابھی ایک جگہ ایک احمدی کو سزا ملی ہے۔چھوٹا افسر جو سزا دینے والا تھا وہ مخالف تھا۔اس کی اپیل ایک اور اعلیٰ افسر کے پاس گئی تو اس نے کہا کیا مرزائی ہی سزا دینے کے لئے رہ گئے ہیں ؟ عیسائی بھی تبلیغ کرتے ہیں۔اگر انہوں نے تبلیغ کی تو کیا ہوا ؟ گویا یہ فطرت کی آواز تھی جو اس کے دل سے آئی ممکن۔اس نے قرآن کریم پڑھا ہوا ہو اور اُس پر یہ اثر ہو کہ اگر عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی ہے