انوارالعلوم (جلد 26) — Page 396
انوار العلوم جلد 26 396 کثرت سے ہیں۔ہمارے ملک میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ڈاکٹری پاس لوگ ہی علاج کر سکتے ہیں۔یہ درست نہیں۔مجھے ہومیو پیتھک کا شوق ہے اور میں محض خدمتِ خلق کے طور پر بیس سال سے مفت علاج کر رہا ہوں۔اور میرے کتب خانہ میں اتنی کتابیں ہیں جو بڑے بڑے ڈاکٹروں کے کتب خانوں میں بھی نہیں ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ مری میں ایک صاحب جو پہلے معمولی کمپاؤنڈر (COMPOUNDER) تھے اور ہومیو پیتھی کی پریکٹس کرتے تھے انہوں نے میرا علاج کیا اور اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔بڑے بڑے ڈاکٹروں نے میرا علاج کیا تھا لیکن میں اکڑوں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔لیکن ان صاحب نے میرا علاج کیا اور میں اکڑوں بیٹھنے لگ گیا۔وہ معمولی کمپاؤنڈر تھے لیکن کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد بڑے اچھے ڈاکٹر بن گئے ہیں۔یہاں تک کہ لاہور کے بعض کا لجوں کے پاس شدہ ڈاکٹر ہیں اُن سے بھی زیادہ ان کی دوائی مؤثر ہوتی تھی۔ہمارے ربوہ میں بھی ایک صاحب ہو میو پیتھک کی پریکٹس کرتے ہیں۔وہ معمولی کلرک تھے لیکن ہومیو پیتھک کی پریکٹس میں انہوں نے بڑی مشق کر لی ہے۔بہر حال جماعت کو چاہئے کہ تحریک جدید اور وقف جدید کی طرف خاص توجہ کرے۔اسی طرح واقفین کو چاہئے کہ وہ تفسیر میں لے کر پڑھیں۔تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر بھی۔اور لوگوں میں پھیلائیں تا کہ قرآن کریم سے لوگوں کا تعلق پیدا ہو۔قرآن کریم ہی ایک ایسی چیز ہے جو دلوں میں نور پیدا کرتی ہے۔اگر آپ لوگ قرآن پھیلائیں گے تو احمدیت کی دشمنی لوگوں کے دلوں سے خود بخود کم ہو جائے گی۔وہ جب پڑھیں گے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی سختی نہ کرو تو کیا انہیں خیال نہیں آئے گا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ کیوں کرتے ہیں؟ ہماری جماعت شکایت کیا کرتی ہے کہ لوگ ہم پر سختی کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے واقف نہیں کیا۔اگر وہ تفسیر صغیر وغیرہ اپنے پاس رکھیں اور لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیں تو آہستہ آہستہ لوگوں میں قرآن سیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے پچھلی جنگ میں ہمارے ایک دوست عراق گئے۔انہوں نے ایک غیر احمدی