انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 380

انوار العلوم جلد 26 380 کام لیا اور آہستہ آہستہ اپی تبلیغ کو جاری رکھا۔جس میں ڈاکٹر بدرالدین صاحب کا بہت کچھ دخل تھا۔چنانچہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں ایک جماعت گو بڑی نہیں قائم ہوگئی ہے۔فلپائن جو بہت سے جزیروں کا مجموعہ ہے اس کا ایک جزیرہ برٹش بورنیو کے بالکل قریب ہے۔جہاں ڈاکٹر بدرالدین صاحب رہتے ہیں ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ فلپائن والے ربوہ سے تو مبلغ آنے نہیں دیتے لیکن میں جو یہاں ایک ڈاکٹر کی حیثیت رکھتا ہوں اگر وہاں چلا جاؤں تو شاید میرے رستہ میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔چنانچہ و اپنی پریکٹس کا نقصان کر کے وہاں گئے اور کچھ مہینے فلپائن میں تبلیغ کے لئے وقف کئے۔کچھ لوگ تو پہلے ہی لٹریچر کے ذریعہ احمدیت کی طرف مائل ہو چکے تھے اور کچھ لوگوں کو ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے احمدی کیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں کی جماعت تین سو سے زیادہ ہو گئی۔اس جماعت کے پریذیڈنٹ وہاں کے ہی ایک دوست ہیں جن کا نام حاجی آتا ہے جو بڑی قربانی اور تبلیغ کرنے والے ہیں۔ان کے ذریعہ وہاں اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں تبلیغ ہو رہی ہے۔پچھلے سال وہاں ایک جزیرہ کا گورنر احمدی ہو گیا تھا مگر چونکہ اس علاقہ میں شورش بہت ہے اس لئے چند ماہ ہوئے اُسے قتل کر دیا گیا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ مگر اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں کے بعد ایک ڈپٹی کمشنر کو احمدی کر دیا۔اب ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے لکھا ہے کہ حاجی ابا صاحب کو ربوہ بلوا کر کچھ مدت دینی تعلیم دی جائے تا کہ وہ واپس آ کر اس ملک میں تبلیغ کو زیادہ وسیع کر سکیں۔چنانچہ میں نے تحریک جدید کو ہدایت دے دی ہے کہ ان کو یہاں بلانے کا انتظام کیا جائے۔مگر تحریک جدید والوں نے مجھے اطلاع دی ہے کہ حاجی ابا صاحب نے لکھا ہے کہ چونکہ میں سرکاری ملازم ہوں میں ربوہ نہیں آسکتا۔میں ایک اور نو جو ان کو تیار کر کے بھجوا رہا ہوں۔جونہی اس کا پاسپورٹ بن گیا میں اسے پاکستان بھجوا دوں گا۔اس عرصہ میں فلپائن کا ایک مخلص احمدی اسامه نامی (با وجود گورنمنٹ کی روکوں کے ) فلپائن سے بھاگ کر برطانوی بور نیو میں آ گیا اور وہاں سے ملایا ہوتا ہوار بوہ پہنچ گیا اور اب یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔اس کی