انوارالعلوم (جلد 26) — Page xliii
انوار العلوم جلد 26 32 تعارف کتب سوسال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا تھا یہ صحیح کہا تھا یا غلط۔میں بیشک اُس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مؤرخ اس بات پر مجبور ہوگا کہ وہ اس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا جس کو پُر کرنے والا اُسے کوئی نہیں ملے گا" پھر پیشگوئی کے رنگ میں جلالی الفاظ میں فرمایا: یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ جو شخص بھی میری بیعت کا سچا اقرار کرے گا وہ خدا کے فضل سے قیامت تک میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی اور ہوتی رہے گی۔زمانہ بدل جائے گا، حالات بدل جائیں گے، حکومتیں بدل جائیں گی اور میں بھی اپنے وقت پر وفات پا کر اپنے خدا کے حضور حاضر ہو جاؤں گا مگر خدا تعالیٰ کی یہ بتلائی ہوئی بات کبھی نہیں بدلے گی کہ میرے ماننے والے ہمیشہ میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہیں گے" خطاب کے اخیر پر احباب کو ان الفاظ میں دعوت الی اللہ کی نصیحت فرمائی: " پس اے میرے عزیز و ! تم آسمانی آب حیات کی متلاشی اقوام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حوض کوثر پر لے جاؤ اور انہیں گندی زیست سے نجات دلانے اور اُن کے اندر ایمان کی حرارت پیدا کرنے کے لئے کا فوری اور زنجبیلی جام پلاؤ اور اس سانپ کا سر ہمیشہ کے لئے چل دو جس نے آدم کی ایڑی پر ڈسا تھا اور اُسے جتِ ارضی سے نکال دیا تھا۔اس وقت ہماری جماعت میدانِ جہاد میں کام کر رہی ہے۔اور وہی فوج دشمن کا دلیری سے مقابلہ کر سکتی ہے جس کی صفوں میں انتشار نہ ہو۔قرآن کریم نے اس کی اہمیت پر بڑا زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ مومنوں کی جماعت جب دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوتی ہے تو اس کی کیفیت بنیان مرصوص کی سی ہوتی ہے۔یعنی وہ ایک ایسی دیوار کی طرح ہوتے ہیں جس کی مضبوطی کے لئے اُس پر سیسہ پگھلا کر ڈالا گیا