انوارالعلوم (جلد 26) — Page 370
انوار العلوم جلد 26 370 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1958ء ہو۔میں نے اُن دوستوں کو جنہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ خلیفہ ہمیے ہیں ڈانٹا اور کہا کہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے درست کیا ہے۔اس کی ڈیوٹی ہی یہی تھی کہ کسی کو آگے نہ گزرنے دے۔پھر اس پہریدار نے مجھے کہا پاس ورڈ مقرر ہے وہ مجھے بتائیں۔خیر اس کا افسر دوڑا ہوا آیا اور اُس نے پاس ورڈ بتایا۔تب پہریدار نے کہا اب آپ اندر جا سکتے ہیں۔میں نے اس شخص کی تعریف کی اور کہا یہ اس قابل ہے کہ اسے انعام دیا جائے۔اس نے بہت اچھا کام کیا ہے۔تو ڈیوٹی کی ادائیگی اور تنظیم بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہماری جماعت میں آئی ہے۔مگر پھر بھی بعض دفعہ بعض لوگ غلطی کر بیٹھتے ہیں۔مثلاً آج ہی ملاقات میں میں نے دیکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں دیر سے جماعت کو سمجھا رہا ہوں کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں اور ضعیف ہو گیا ہوں پھر بھی بعض لوگ اظہار عقیدت کی وجہ سے اپنے گھٹنے میرے آگے ٹھیک دیتے ہیں اور مجھے آگے کو کھینچتے ہیں۔ایک شخص نے تو میرے پاؤں پر اپنا گھٹنہ رکھ دیا جس کی وجہ سے مجھے کوئی دو گھنٹہ درد رہی۔وہ پاؤں گو بیماری سے متاثر نہیں ہے مگر شاید یہ بیماری کا اثر ہے کہ اگر میرے دائیں طرف بھی جو بیماری سے متاثر نہیں ہے چوٹ لگے تو وہ بائیں طرف جو بیماری سے متاثر ہے اثر کر جاتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد میرے لئے ایک قدم چلنا بھی مشکل ہو گیا اور اب بھی میں بڑی مشکل سے یہاں پہنچا ہوں۔میری انگلیوں میں کھچاوٹ ہوتی تھی اور کانٹے سے چھتے تھے۔تو ملاقات کے وقت بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ملاقات کرانے والوں کو بھی میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے۔میں نے انہیں بتایا تھا کہ مجھے بائیں طرف بیماری کا حملہ ہوا ہے اگر تم ملاقات کرنے والوں کو میری بائیں طرف سے گزارو گے تو میں انہیں دیکھ نہیں سکوں گا کیونکہ بائیں طرف مجھے بیماری کا حملہ ہوا ہے اور بائیں آنکھ سے اچھی طرح دیکھ نہیں سکتا اس لئے ملاقات کرنے والوں کو میری دائیں طرف سے لانا چاہئے۔لیکن باوجود میرے سمجھانے کے وہ ملاقات کرنے والوں کو میری بائیں طرف سے ہی لاتے تھے۔آخر میری آنکھیں تو کمزور ہیں ملاقات کرنے والے کی آنکھیں تو کمزور نہیں ہوتیں۔وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسے نہیں پہچانا اس لئے وہ اور زیادہ عقیدت کا