انوارالعلوم (جلد 26) — Page 357
انوار العلوم جلد 26 357 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتا ہے۔لیکن دوسرا شخص ایسا نہیں کر سکتا۔پس جس شخص کو کوئی رؤیا یا کشف ہوا سے وہ کشف یا ر و یا اخبار میں چھپوانے کے لئے بھیج دینا چاہئے۔آگے الفضل والوں کا کام ہے کہ وہ اسے شائع کریں یا نہ کریں۔یہ بھی غلط طریق ہے کہ بعض لوگ مجھے کہہ دیتے ہیں کہ الفضل ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا۔وہ بیشک نہ چھاپے تم چُپ کر رہو۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں کہ وہ چھپے۔لیکن اس میں خود الفضل والوں کا اپنا فائدہ بھی ہے کیونکہ اس سے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کو کوئی رؤیا یا کشف یا الہام ہوتا ہے اور وہ شائع ہو جائے تو دوسروں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم توجہ کریں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں بھی کوئی رؤیا یا کشف یا الہام ہو جائے گا۔اس طرح الفضل سلسلہ کی ایک خدمت کرے گا۔وہ جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود گرفت کرے گا آپ لوگوں کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اُسے اس طرف توجہ دلائیں۔لیکن اگر الفضل نہ چھاپے تو پھر اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اصرار نہ کریں کہ الفضل ہماری خواب شائع کرے۔ایڈیٹر آزاد ہوتا ہے اُس کی مرضی ہے کہ کوئی چیز شائع کرے یا نہ کرے۔اگر وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ خود اس سے سمجھ لے گا۔آپ اُس پر داروغہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو 1 پھر تم داروغہ کہلانے والے کہاں سے آگئے۔بہر حال آپ انصار اللہ کے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔اور انصار اللہ کے معنے یہی ہیں کہ وہ روپیہ سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں۔میں نے بتایا ہے کہ روحانی طور پر دین کی خدمت یہی ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اگر اُس کی طرف سے بارش کا کوئی چھینٹا آپ پر بھی پڑ جائے تو ان چھینٹوں کو لوگوں تک بھی پہنچا ئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی تو الگ رہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر چیز کی قدر کرتے تھے۔ایک دفعہ بارش