انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 348

انوار العلوم جلد 26 348 سیر روحانی (11) محروم رکھتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی غریب کو کھانا کھلانے کی تحریص نہیں دلاتا۔پس یا درکھ کہ ایسا آدمی کبھی سچی عبادت نہیں کر سکتا بلکہ اُس کی عبادت دکھاوے کی ہوتی ہے۔اور ایسا شخص یہی نہیں کہ عالیشان دعوتوں سے غریبوں کو محروم رکھتا ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اُدھار دینے سے بھی روکتا رہتا ہے اور اس طرح خدائی لنگر کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتا ہے سو اس کے لئے ایک بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔غرباء ومساکین کو کھانا کھلانے اور ایک مثال قرآن کے لنگر کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ کیس اُن کی ضروریات کو پورا کرنے کا حکم الْبِرَّأَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ وَإِلَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ 39 اس جگہ پر کا لفظ آیا ہے جس کے معنے بہت بڑی نیکی کے ہوتے ہیں۔مگر چونکہ یہ مصدر ہے اور عربی زبان میں مصدر بمعنی فاعل بھی آجاتا ہے اور بمعنی مفعول بھی ، اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ بڑا نیکی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف مشرق اور مغرب کی طرف منہ پھیر کر ظاہری نماز پڑھ لیتا ہے بلکہ بڑا نیکی کرنے والا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع وہ ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور ملائکہ پر اور کتب سماویہ پر اور سارے نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے مال کو با وجود تنگی کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے غریبوں میں تقسیم کرتا رہتا ہے۔یعنی قرآنی لنگر کی یاد میں دُنیاوی لنگر کو قائم رکھتا ہے۔پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے اُسے اس لنگر کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے۔ورنہ یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن اُسے سخت عذاب دیا جائے گا۔لوگ یوں تو دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ! عذاب قبر سے بچائیو۔یا اللہ ! دوزخ کے عذاب سے بچائیولیکن کام وہ کرتے ہیں جو دوزخ کے عذاب کو لانے والے ہوتے ہیں۔یعنی