انوارالعلوم (جلد 26) — Page 288
انوار العلوم جلد 26 288 پیداوار حاصل کرتے ہیں لیکن ہم ایک ایکڑ سے صرف ہمیں چھپیں من پیدا کرتے ہیں۔اگر اتنی پیداوار ہمارے ملک میں بھی ہونے لگ جائے تو یہ آٹھ ایکڑ زمین بتیس ایکڑ کے برا بر ہو جائے گی۔پھر اگر ہم اس میں گندم بوئیں تو اور زیادہ آمد ہوگی۔اگر گنا بوئیں تو آمد اور بھی بڑھ جائے گی۔پشاور کی طرف گنا عام بویا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تھوڑی تھوڑی زمین سے بھی بڑی آمد پیدا کی جاتی ہے اور معمولی معمولی زمیندار بھی بڑے دولت مند ہوتے ہیں۔وہاں زمین کی بڑی قدر ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ اس علاقہ کی ایک لڑکی جو بڑی مخلص احمدی ہے میرے پاس آئی۔اس کے باپ نے جو بڑا زمیندار تھا اپنی زمین میں سے لڑکوں کے ساتھ اپنی اس لڑکی کو بھی حصہ دے دیا تھا۔اُس نے مجھے بتایا کہ میرے باپ نے مجھے دوسو پچھتر جریب زمین دے دی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اُسے ایک سو سینتیس ایکڑ زمین مل گئی تھی۔پس اگر زمینیں رکھنے والے دوست آٹھ آٹھ دس دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کریں تو ہمارا واقف زندگی بڑی عمدگی سے گزارہ کر سکتا ہے۔چک منگلا اور چنڈ بھروانہ کی طرف جو احمدی ہوئے ہیں اُن میں سے بالعموم جو احمدی یہاں آتا ہے وہ کہتا ہے میری زمین 8 مربعے ہے۔دوسرا کہتا ہے میری زمین سولہ مربعے ہے۔تیسرا کہتا ہے میری زمین 40 مربعے ہے۔8 مربعوں سے کم تو مجھے کسی نے بھی زمین نہیں بتائی۔اور جس احمدی کے پاس 8 مربعے زمین ہو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ دوسو ایکٹر کا مالک ہے اور جس کے پاس 40 مربعے زمین ہے اس کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین ہے اور اس قدر زمین میں سے آٹھ ایکڑ اس سکیم کے لئے وقف کر دینا کونسی مشکل بات ہے۔یہ علاقہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں جن کی ایک عورت کی مثال کل میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بیان کی تھی۔وہ بیعت کرنے یہاں آئی ہوئی تھی کہ شام کو اُس کی بیٹی بھی یہاں آ گئی۔اُس نے کہا اماں! تو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے۔وہ لوگ تو میری بات سنتے ہی نہیں۔تو نے مجھے جو کتابیں دی تھیں میں انہیں پڑھ کر سناتی ہوں تو وہ سنتے ہی نہیں۔میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو وہ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں