انوارالعلوم (جلد 26) — Page 287
انوار العلوم جلد 26 287 عرق گاؤ زبان اور خشک دوائیں جیسے بنفشہ ، لسوڑیاں اور کالی مرچ وغیرہ رکھوائی جائیں۔ان دکانوں کو چلانے کے لئے روپیہ ہم اس سکیم سے دیں گے۔اس سکیم کو چلانے کے لئے اُن دوستوں سے جو تعاون کے لئے تیار ہوں چھ روپیہ سالا نہ چندہ لیا جائے گا جسے پھیلا کر یعنی آٹھ آنہ ماہوار کے حساب سے بھی دیا جاسکتا ہے۔اس طرح صرف دس ہزار آدمی مل کر اس سکیم کو پانچ چھ گنا تک وسیع کر سکتے ہیں۔اور پھر اس سکیم کو اور بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔اگر خدا چاہے اور ہمیں ایک لاکھ آدمی اس سکیم میں چندہ دینے والا مل جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قریباً ایک ہزار معلم رکھا جا سکتا ہے۔اور جو ابتدائی سکیم میں نے بتائی ہے اس سے سو گنا کام کیا جا سکتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کر سکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائے تو پشاور سے کراچی تک کے علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں اور ہر سال دس دس بیس بیس ہزار اشخاص کی تعلیم و تربیت ہم کر سکیں گے۔بہر حال دوست اس سکیم کو نوٹ کر لیں۔اس کے لئے اپنے نام پیش کریں اور اس سلسلے میں اگر کوئی مفید بات ان کے ذہن میں آئے تو اس سے بھی اطلاع دیں۔میں نے مختصراً اس سکیم کو بیان کر دیا ہے کہ ہم ایسے واقفین کو 40 سے 60 روپیہ ماہوار تک دیں گے۔اگر ہو سکا تو کمپونڈری کی تعلیم دلائیں گے۔علاقہ کے زمینداروں کو تحریک کریں گے کہ وہ آٹھ دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں۔اس زمین میں ہم باغ لگوادیں گے۔بعض علاقوں میں بڑے بڑے زمیندار احمدی ہیں اُن کے لئے اس قدر زمین وقف کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔پھر واقف زندگی اس زمین سے اس قدر پیدا وار کر سکتا ہے جو اُ سے کفایت کر سکے۔اب تو ایسے طریق نکل آئے ہیں جن پر عمل کر کے تھوڑی زمین سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔امریکہ میں ایک ایک ایکڑ سے اتنی پیداوار لی جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنی پیداوار ہیں ایکڑ زمین سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔مثلاً امریکہ سے مجھے مکئی کا ایک نمونہ آیا تھا۔اس مکئی کے متعلق فرم والوں نے لکھا تھا کہ اس سے فی ایکڑ سال میں ہم پچاس سے سومن تک