انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 234

انوار العلوم جلد 26 234 ہر احمد می عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کو قربان کر دیا۔غرض إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ میں ایک نہایت زبر دست پیشگوئی بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں نرینہ اولاد کوئی نہیں اس لئے آپ کا نام دنیا سے مٹ جائے گا مگر یہ جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد نرینہ کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دے گا اور وہ ہمیشہ آپ کے نام کو بلند کرنے کا موجب رہے گی۔گویا اس سورۃ میں اس بات کی پیشگوئی کی گئی تھی کہ آئندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی اولاد دی جائے گی۔تم بھی إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔چنانچہ اس وقت جو تم یہاں بیٹھی ہو تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہو اور تم اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔اس ضلع کو دیکھ لو جب ہم یہاں آئے تو یہاں صرف چار پانچ احمدی تھے لیکن اب چھنڈ بھروانہ اور منگلا وغیرہ میں دو ہزار کے قریب احمدی ہو گئے ہیں۔اٹھارہ انیس ہزار احمدی لائل پور ضلع میں ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب احمدی سیالکوٹ میں ہیں۔جب 1891 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان میں جلسہ کیا اُس میں صرف 75 احمدی شامل ہوئے تھے اور اس پر آپ بڑے خوش تھے لیکن 1892ء میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اس پر 327 افراد آئے۔8 گویا ایک سال کے عرصہ میں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد 75 سے بڑھ کر 327 ہوگئی۔اسی طرح ہر سال ہماری جماعت بڑھتی چلی گئی۔اب دیکھ لو جھنگ اور سرگودھا کے اضلاع میں ہی پانچ چھ ہزار احمدی بستا ہے اور یہ تعداد پہلی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ہمیں کثرت عطا فرما رہا ہے۔جس کی طرف اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر میں اشارہ کیا گیا ہے۔بے شک کوثر کے ایک معنی ایسے بیٹے کے بھی ہیں جو اپنے اندر خیر کثیر رکھتا ہو اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں لیکن کوثر سے مراد جماعت کی کثرت بھی ہے اور اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کے