انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 156

انوار العلوم جلد 26 156 سیر روحانی (10) جوڑا پیدا کیا ہے۔اگر قرآن اگلے جہان پر زور نہ دیتا تو لوگ کہتے یہ جہان تو ایک ہو گیا۔آپ جو کہتے ہیں کہ ہر چیز کا جوڑا ہے تو پھر اس کا جوڑا کونسا ہے؟ قرآن نے پیش کر دیا کہ اس کا جوڑا اگلا جہان ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر آتا ہے کہ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ 5 جو شخص اپنے رب کی شان سے ڈرتا ہے اُس کو دو جنتیں ملیں گی۔ایک اس دنیا میں ایک اگلے جہان میں۔سود و زندگیوں کا اس آیت میں بھی ذکر آ گیا۔یوں دونوں زندگیوں کا الگ بھی ذکر آتا ہے مگر اس آیت سے بھی نکلتا ہے کہ دوزندگیاں ہیں۔جنت اور دوزخ بھی جوڑا ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 6 اے خدا! ہم ہر چیز کے جوڑے کے قائل ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ایک یہ دنیا ہے اور ایک اگلا جہان ہے۔تو ہم کو اس دنیا میں بھی آرام بخشید اور سکھ دیجیو اور اگلے جہان میں بھی سکھ دیجئے۔اور اگلے جہان میں بھی ہم کو پتا ہے کہ پھر جوڑا ہے، ایک دوزخ ہے اور ایک جنت ہے۔گو یا جوڑ اوہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔تو ہم کو اس جوڑے میں سے جو دوزخ والا حصہ ہے اُس سے بچائیو۔اور اس جوڑے میں سے جو جنت والا حصہ ہے وہ عطا کیجیؤ۔بلکہ پھر آگے چل کر اس دنیا کو بھی جوڑا بتایا ہے اور اگلے جہان کو بھی جوڑا بتایا ہے۔اس دنیا کے متعلق فرماتا ہے کہ ایک عسر کی دنیا ہے اور ایک ٹیسر کی دنیا ہے۔ایک نور کی دنیا ہے ایک ظلمت کی دنیا ہے۔یعنی ایک زندگی اس دنیا میں ایسی ہے جو تکلیف اور دُکھ کی زندگی ہے اور ایک زندگی راحت کی زندگی ہے۔اسی طرح ایک زندگی نور کی ہے اور ایک تاریکی کی۔یہ دونوں اس دنیا کی زندگی کے جوڑے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا 7 یعنی یاد رکھ تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔ہاں یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔اسی طرح فرماتا ہے اَلْحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمتِ وَالنُّورَ 8 یعنی سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ایک ظلماتی دنیا پیدا کی ہے اور ایک نوری دنیا پیدا کی ہے۔ظلماتی دنیا ظاہری لحاظ سے رات