انوارالعلوم (جلد 26) — Page 123
انوار العلوم جلد 26 123 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کہ میاں منان نے حدیثیں جمع کی ہیں۔مگر یہ صحیح ہے کہ جامعہ احمدیہ کے استادوں اور طالب علموں کی مدد سے اور کچھ حضرت خلیفہ اول کے کام کی مدد سے بخاری کے باب لے کر ان کے ماتحت مسند احمد بن حنبل کی حدیثیں انہوں نے مضمون وار جمع کر دی ہیں۔یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح کہ ڈکشنری میں سے لفظ نکالنے۔ہر ایک محنتی طالب علم یہ کام کر سکتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت خلیفہ اول کی خواہش کے مطابق میں نے علماء کو مقرر کر دیا ہے اور وہ کتاب مکمل ہو چکی ہے۔اب وہ جامع کی شکل میں زیادہ مکمل صورت میں موجود ہے۔حضرت خلیفہ اول کی خواہش بعض اور اصلاحات کی بھی تھی جن کو میں نے 1944 ء کی مجلس عرفان میں بیان کیا تھا۔اس کے متعلق بھی میں نے ہدایت دے دی ہے کہ ان کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔وہ احمدی جن سے روپیہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی تا کہ جماعت کے فتنے پر اسے خرچ کیا جائے وہ مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کے لڑکے ہیں۔اور اسی طرح افریقہ کا ایک دوست ہے جو بچ گیا۔اس کے بیٹے نے کہہ دیا کہ میں ایسا خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ان سے میں کہتا ہوں کہ تمہاری تو وہی مثل ہے کہ " تیری جوتی تیرے ہی سر " تم سے ہی روپیہ لے کے تمہارے ہی خلاف استعمال کیا جانے والا تھا لیکن خدا نے تمہیں بچالیا۔یہ فتنہ اب بیٹوں سے نکل کر پوتوں تک بھی جا پہنچا ہے۔چنانچہ میاں سلطان علی صاحب ولد فتح محمد صاحب سندھ سے لکھتے ہیں کہ : میں خدا کو حاضر ناظر جان کر ایمان سے کہتا ہوں کہ گزشتہ سال شروع سردی میں میرے ساتھ عبدالواسع عمر پسر مولوی عبدالسلام عمر اور دوسرے دو آدمی مولوی عبد السلام عمر کی بستی نور آباد سے گوٹھ سلطان علی کو شام کے وقت آ رہے تھے۔باتوں باتوں میں میاں عبدالواسع نے کہا کہ اگر انسان نیک ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ بھی مانا جائے تو کوئی حرج نہیں۔جس پر میں نے جواب دیا کہ اس طرح تو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ مانا جائے تو کوئی حرج نہیں۔پھر دو تین باتیں تبلیغی طور پر میں نے اور دوسرے ساتھیوں نے کیں پھر میاں صاحب چُپ ہو گئے۔