انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 94

انوار العلوم جلد 26 94 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت در دصاحب کے سپرد کیا اور در دصاحب کے ہاتھ سے پولیس سب انسپکٹر چھین کر لے گیا۔میں نے فوراً گورنر کو تار دلا دیا کہ اس طرح پولیس آئی ہے اور درد صاحب کے ہاتھ سے ایک ٹریکٹ چھین کر لے گئی ہے۔ہمیں نہیں پتا اس میں کیا ہے۔مگر اس کا منشا یہ ہے کہ خلیل کو زیر الزام لائے کیونکہ وہ خلیل کے نام آیا تھا۔اس پر گورنمنٹ نے تحقیقات کی اور پولیس کی شرارت اُس پر ظاہر ہوگئی اور وہ ہیڈ کانسٹیبل جو اُس وقت سب انسپکٹر کام کر رہا تھا اُس کو ڈی گریڈ کیا گیا۔اور ڈلہوزی سے بدل کر شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے تھانہ میں بھیج دیا گیا۔اُس وقت نہ ہمیں معلوم تھا کہ عبدالباسط بھی کمیونسٹ اثر کے نیچے ہے اور نہ ہم اس کے لئے کوئی کوشش کر سکتے تھے۔کیونکہ وہ لائکپور میں پڑھتا تھا اور لائکپور کالج کے کمیونسٹ لڑکوں سے ملا کرتا تھا اور ہماری حفاظت سے باہر تھا۔پھر یہ مخالفت اتنی لمبی کی گئی کہ 1950ء، 1951 ء کی گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں عبدالمنان کی خلافت کا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔چنانچہ عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد صادق صاحب مبلغ سیرالیون جو محبوب علی صاحب مرحوم آف مالیر کوٹلہ کی دختر ہی لکھتی ہیں کہ : ” 1950ء یا 1951ء کا واقعہ ہے کہ میرا خالہ زاد بھائی منور شاہ ولد فضل شاہ ( ساکن نواں پنڈ احمد آباد مضافات قادیان کا ہے۔اور اس وقت گوٹھ لالہ چرنجی لال نمبر 385 تحصیل میر پور خاص ضلع تھر پارکر سندھ میں رہائش رکھتا ہے ) انہی دنوں میں یعنی 1950ء، 1951ء میں جب کہ مرزا شریف احمد صاحب کی دکان بندوقوں والی میں ملازم تھا ربوہ میں میرے پاس ملنے کو آیا۔اتفاقاً ایک دن باتوں باتوں میں یہ ذکر کیا کہ ایک گروہ نو جوانوں کا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کے بعد اگر خلافت پر مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت نے بٹھایا تو ہماری پارٹی میں سے کوئی بھی اسے نہیں مانے گا۔ہم تو میاں عبدالمنان صاحب عمر کوخلیفہ مانیں گے۔میں نے اُسے بُرا منایا اور جھڑک کر کہا کہ وہ خبیث کون کون ہیں؟ اس پر غصے میں آ کر کہنے لگا کہ دیکھنا ! اس وقت تم لوگوں کا ایمان بھی قائم نہیں رہے گا۔یہ کہہ کر اُسی وقت وہ میرے گھر سے باہر چلا گیا۔میں اس کی وجہ سے دل میں