انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 61

انوار العلوم جلد 25 61 سیر روحانی (8) کہ کوئی کام کرتے کرتے زیادہ دیر ہو گئی یا کچھ طبیعت خراب تھی نماز کے وقت آواز دینے والے نے آواز دی کہ نماز کھڑی ہو گئی ہے ( یہ پرانی سنت ہے کہ امام کو گھر پر جاکے مؤذن اطلاع دیتا ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے) مگر اُن کی آنکھ نہ کھلی۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ وقت جارہا ہے نماز پڑھا دی۔جب اُن کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ نماز ہو چکی ہے۔اِس پر اُن کو اتنا صدمہ ہوا کہ سارا دن روتے رہے اور استغفار کرتے رہے اور دعائیں کرتے رہے کہ یا اللہ ! میں نے کیا خطا کی تھی اور کیا گناہ کیا تھا کہ اس کے نتیجہ میں آج نماز با جماعت رہ گئی اور میں مسلمانوں کی امامت نہیں کر اسکا۔دوسرے دن انہوں نے صبح کے قریب ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ گویا شیطان آیا ہے اور وہ آکر اُن کو ہلاتا ہے کہ میاں ! اُٹھ نماز پڑھ ، میاں ! اُٹھ نماز پڑھ۔وہ پہلے تو گھبر ائے اور سمجھا کہ کوئی کمرہ کے اندر آگیا ہے کیونکہ خواب میں بھی انسان ایسی چیزوں سے گھبراتا ہے جن سے اُسے گھبرانے کی عادت ہوتی ہے مگر جب انہوں نے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ میں شیطان ہوں۔انہوں نے کہا تم شیطان ہو اور مجھے نماز کے لئے جگار ہے ہو ؟ کہنے لگا ہاں! میں نماز کے لئے جگا رہا ہوں۔گل میں نے تمہاری نماز ضائع کرادی تھی اور ایسے حالات پیدا کر دیئے تھے کہ تم سوتے رہو اور آنکھ نہ کھلے مگر اس پر تم اتنا روئے اور تم نے اتنی توبہ کی کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کی نماز جو رہ گئی ہے اس کے بدلہ میں دس نیکیوں کا ثواب لکھ دو کیونکہ یہ بہت رویا ہے۔میں نے کہا میں تو ایک نیکی سے محروم کر رہا تھا اور اس کو دس نیکیاں مل گئیں آج اسے جگا دو کہ 9 نیکیاں تو بچیں۔یہ طریقہ ہے بدیوں کی جگہ نیکیاں لکھنے کا۔یعنی انسان کے دل میں جو ندامت اور توبہ اور انابت پیدا ہوتی ہے اُس کا ثواب اتنا مقرر کر دیا جاتا ہے کہ وہ ان بدیوں کی جگہ کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کی جگہ نیکی بن جاتا ہے۔بدیوں کو نیکیوں میں بدلنے کی ایک اور مثال اسی طرح ایک دوسری مثال حدیث میں آتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ لوگوں سے معاملہ