انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 55

انوار العلوم جلد 25 55 سیر روحانی (8) بیچارے کو کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا۔حضرت امام ابو حنیفہ کا حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو بادشاہ نے قاضی القضاة مقرر کیا تو انہوں نے اس عہدہ قاضی القضاۃ بننے سے انکار کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں قاضی القضاۃ نہیں بنتا۔بادشاہ خفا ہو گیا اور اس نے کہا میں اس کو سزا دونگا کیونکہ انہوں نے ہتک کی ہے۔مگر چونکہ لوگوں میں خبر مشہور ہو چکی تھی اس لئے ان کے دوست دُور ڈور سے انہیں مبارک باد دینے کے لئے پہنچے کہ آپ قاضی القضاۃ مقرر ہو گئے ہیں۔لیکن جب شہر میں پہنچے تو پتہ لگا کہ آپ نے تو انکار کر دیا ہے۔بہر حال وہ آپ کے پاس آئے اور کہا ہم تو مبارکباد دینے کے لئے آئے تھے۔انہوں نے کہا تم کس بات کی مبارک باد دینے کے لئے آئے تھے ؟ وہ کہنے لگے اتنی بڑی حکومت کا آپ کو قاضی القضاۃ مقرر کیا گیا ہے کیا ہم مبارکباد نہ دیں؟ انہوں نے کہا تم بڑے بیوقوف ہو ، میں کیا کرونگا؟ میں عدالت میں جاکر بیٹھوں گا اور دو آدمی میرے سامنے پیش ہونگے۔ایک کہے گا اِس نے میر اسو روپیہ دینا ہے دوسرا کہے گا میں نے کوئی نہیں دینا۔اب وہ دونوں آپس میں جھگڑ رہے ہونگے، یہ کہے گا دینا ہے وہ کہے گا نہیں دینا اور میں بیچ میں بیٹھا ہو نگا کیونکہ مجھے حکومت نے مقرر کیا ہے کہ فیصلہ کرو اس نے دینا ہے یا نہیں دینا۔وہ جو کہتا ہے اس نے سو روپیہ دینا ہے اُس کو پتہ ہے کہ اُس نے دینا ہے یا نہیں دینا۔اور جو کہتا ہے میں نے نہیں دینا اُس کو بھی پتہ ہے کہ میں نے دینا ہے یا نہیں دینا۔اور میں جو جج بن کر بیٹھا ہو نگا مجھے پتہ ہی نہیں ہو گا کہ اس نے دینا ہے یا نہیں دینا۔پس سب سے زیادہ قابلِ رحم حالت تو میری ہو گی کہ مدعی کو بھی سچائی کا پتہ ہے اور مدعا علیہ کو بھی سچائی کا پتہ ہے اور میں جو قاضی بن کے بیٹھا ہوں جس کے سپر دسب سے اہم کام ہے اُس کو نہیں پتہ کہ حقیقت کیا ہے ؟ تو میں کس طرح یہ بوجھ اُٹھا سکتا ہوں۔تو یہ بھی ایک بڑا مشکل سوال ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قضاء میں دیکھو کتنا زبر دست نظام رکھا گیا ہے کہ ہم ڈائری بھی پیش کریں گے، لکھنے والے عینی گواہ بھی لائیں گے اور پھر عینی گواہوں کے علاوہ اپنی زبان اور اپنے کانوں