انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 472

انوار العلوم جلد 25 472 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات بنایا کہ یہ بڑے آدمی کہلا سکیں۔لیکن انہوں نے یہ کیا کہ جس جماعت نے انہیں پڑھایا تھا اُسی کو تباہ کرنے کے لئے حملہ کر دیا۔اس سے بڑھ کر اور کیا قساوت قلبی ہو گی کہ جن غریبوں نے انہیں پیسے دے کر اس مقام پر پہنچایا یہ لوگ انہی کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔جماعت میں ایسے ایسے غریب ہیں کہ جن کی غربت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا مگر وہ لوگ چندہ دیتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں ایک غریب احمدی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ امراء کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں۔ایک دفعہ آپ میرے گھر بھی تشریف لائیں اور میری دعوت کو قبول فرمائیں۔میں نے کہا تم بہت غریب ہو میں نہیں چاہتا کہ دعوت کی وجہ سے تم پر کوئی بوجھ پڑے۔اُس نے کہا میں غریب ہوں تو کیا ہوا آپ میری دعوت ضرور قبول کریں۔میں نے پھر بھی انکار کیا مگر وہ میرے پیچھے پڑ گیا۔چنانچہ ایک دن میں اس کے گھر گیا تا کہ اس کی دلجوئی ہو جائے۔مجھے یاد نہیں اس نے چائے کی دعوت کی تھی یا کھانا کھلایا تھا۔مگر جب میں اس کے گھر سے نکلا تو گلی میں ایک احمدی دوست عبد العزیز صاحب کھڑے تھے وہ پسر ور ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور مخلص احمدی تھے۔لیکن انہیں اعتراض کرنے کی عادت تھی۔میں نے انہیں دیکھا تو میر ادل بیٹھ گیا اور میں نے خیال کیا کہ اب یہ دوست مجھ پر ضرور اعتراض کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا۔حضور ! آپ ایسے غریبوں کی دعوت بھی قبول کر لیتے ہیں؟ میں نے کہا عبد العزیز صاحب میرے لئے دونوں طرح مصیبت ہے۔اگر میں انکار کروں تو غریب کہتا ہے۔میں غریب ہوں اس لئے میری دعوت نہیں کھاتے۔اور اگر میں اس کی دعوت منظور کرلوں تو آپ لوگ کہتے ہیں کہ غریب کی دعوت کیوں مان لی۔اب دیکھو اس شخص نے مجھے خود دعوت پر بلایا تھا۔میں نے بار ہا انکار کیا لیکن وہ میرے پیچھے اس طرح پڑا کہ میں مجبور ہو گیا کہ اس کی دعوت مان لوں لیکن دوسرے دوست کو اس پر اعتراض پیدا ہوا۔غرض جماعت میں ایسے ایسے غریب بھی ہیں کہ ان کے ہاں کھانا کھانے پر بھی دوسروں کو اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ایسی غریب جماعت نے ان لڑکوں