انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 453

انوار العلوم جلد 25 453 قرون اولیٰ کی مسلمان خو سیکھ لو تو تمہارے مقابلہ پر بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں ٹھہر سکتی۔بلکہ مرد بھی تم سے طاقت حاصل کریں گے۔گویا تمہاری مثال دیا سلائی کی سی ہو گی اور مرد کی مثال تیل کے پیسے کی سی۔جب تم دیا سلائی سے آگ لگاؤ گی تو وہی مرد جو بزدلی کی وجہ سے کونہ میں کھڑا۔ہو گا جوش میں آجائے گا اور جس طرح آگ کی وجہ سے تیل بھڑک اُٹھتا ہے تمہارے غیرت دلانے سے وہ بھی بھڑک اٹھے گا اور پھر کسی روک اور مصیبت کی پروا نہیں کرے گا اور قربانی کرتا چلا جائے گا۔میں جب بچہ تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے ایک ہوائی بندوق خرید کر دی تھی اور ہم اس سے جانوروں کا شکار کیا کرتے تھے۔ایک دن ہم شکار کرنے کے لئے باہر گئے تو ایک سکھ لڑکا میرے پاس آیا۔اُن دنوں ارد گرد کے دیہات میں بڑی مخالفت تھی اور وہاں شکار کے لئے جانا مناسب نہیں تھا لیکن اس لڑکے کو بھی شکار کا شوق تھا۔وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا ہمارے گاؤں چلیں وہاں بہت فاختائیں ہیں۔ہم ان کا شکار کریں گے۔چنانچہ میں اس کے ساتھ اس کے گاؤں چلا گیا۔وہاں وہ سکھ لڑکا میرے آگے آگے چلتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ وہ فاختہ بیٹھی ہے اس کو مارو۔اتنے میں ایک عورت باہر نکلی اور اس لڑکے کو مخاطب کر کے کہنے لگی۔تینوں شرم نہیں آندی“ کہ و مسلیاں کولوں جیو ہتیا کراندا ایں“ یعنی تمہیں شرم نہیں آئی کہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر جانور مرواتے ہو۔اس عورت کا یہ کہنا تھا کہ وہ سکھ لڑکا کھڑا ہو گیا اور بڑے غصے سے کہنے لگا، تم کون ہوتے ہو یوں شکار کرنے والے ! حالا نکہ وہ خود ہمیں وہاں لے گیا تھا۔اب دیکھو وہ لڑکا صرف اس عورت کی بات کی وجہ سے ہمارے مقابلہ پر کھڑا ہو گیا اور سکھ اس نے اس بات کی ذرہ پر وا نہ کی کہ وہ خود ہمیں ساتھ لے گیا ہے۔پس عورت کی آواز میں ایک جوش ہوتا ہے اور مرد میں اُس کے لئے جذبہ احترام اور ادب ہوتا ہے، چاہے کوئی مرد کتنا برا ہو، بجوں ہی اس کے کان میں عورت کی آواز پڑتی ہے وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔جب بغداد میں خلافت بہت کمزور ہو گئی اور مسلمانوں کی طاقت ٹوٹ گئی تو اُس