انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 200

انوار العلوم جلد 25 200 متفرق امور پس ہمیں ہر موقع پر خدمتِ خلق کو پیش کرنا چاہئے۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ انتظار کرنا کہ کوئی طوفان آئیں تو پھر خدمتِ خلق کریں یہ بُری بات ہے۔یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا طوفان نہ لائے۔خدمت کے ہر وقت مواقع ہوتے ہیں۔مثلاً بیوائیں دنیا میں ہوتی رہتی ہیں، یتامی ہوتے ہی رہتے ہیں۔ان کے لئے بیماریوں میں نسخے لا دینا، دوائیاں لا دینی، گھر کا سامان خرید کے لا دینا یہ چیز ہر وقت ہو سکتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو طوفانوں کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ دوسرے دنوں کے لئے بھی کام نکالنے چاہئیں جن میں خدمتِ خلق ہو سکے اور لوگوں کی تکلیف کو وہ دور کر سکیں۔پس اس کو ہمیشہ یادرکھو جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج تک یورپ اور امریکہ اس خدمتِ خلق کی روح کو اسلام کے خلاف اپنی عظمت میں پیش کرتے ہیں۔کہتے ہیں عیسائی بڑی خدمت کرتے ہیں مسلمان نہیں کرتے۔اور شرم کی بات ہے کہ ہم ان کا جواب نہیں دے سکتے۔اگر ہماری جماعت کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ خدمت خلق کا اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کریں تو ہم یورپ اور امریکہ کے منہ بند کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ جو تم خدمت کرتے ہو اُس سے بڑھ کر خدمت کرنے والے ہم ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ لوگ قدر نہیں کرتے۔قدر کرنے والے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔مثلاً ڈاکٹر خان صاحب جو ہمارے وزیر اعلیٰ ہیں۔وہ سیالکوٹ گئے تو خدام نے ان کی طرف ایک رقعہ لکھا کہ ہم اس طرح کام کر رہے ہیں۔انہوں نے جیسا کہ افسروں کا قاعدہ ہوتا ہے وہ رقعہ ڈپٹی کمشنر کو دے دیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہاں واقع میں یہ بہت خدمت کر رہے ہیں۔اس پر ڈاکٹر خان صاحب نے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ لوگ خدمت خلق کرتے ہیں لیکن لوگ اِن کو آگے نہیں آنے دیتے۔تو دیکھو وزیر اعلیٰ کو تسلیم کرنا پڑا کہ تم خدمت خلق کر رہے ہو۔ہمارے پاکستان میں تو مولویوں کے ڈر سے افسر بڑے ڈرتے ہیں اور وہ ہماری تعریف نہیں کر سکتے۔ڈرتے ہیں کہ مولوی پیچھے پڑ جائیں گے۔لیکن ہندوستان میں یہ بات نہیں وہاں ہندو سمجھتا ہے کہ میری حکومت ہے مجھے مولویوں کا کیا ڈر ہے۔یہاں ہم نے سیلاب کے موقع پر پچاس ساٹھ ہزار سے