انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 188

انوار العلوم جلد 25 188 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں کچھ اپنے دعویٰ کی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔اس پر سارے اٹھ کر بھاگ گئے۔یہ دیکھ کر حضرت علی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے اے بھائی! آپ نے یہ کیا کیا؟ آپ جانتے ہیں کہ یہ بڑے دنیا دار لوگ ہیں۔ان کو پہلے سنانا تھا اور پھر کھانا کھلانا تھا یہ بے ایمان تو کھانا کھا کر بھاگ گئے کیونکہ یہ کھانے کے بھوکے ہیں۔اگر آپ پہلے باتیں سناتے تو چاہے دو گھنٹہ سناتے وہ ضرور بیٹھے رہتے پھر ان کو کھانا کھلاتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس طرح کیا پھر دوبارہ ان کو بلایا اور ان کی دعوت کی لیکن پہلے کچھ باتیں سنا لیں اور پھر کھانا کھلایا۔اس کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا اے لوگو! میں نے تمہیں خدا کی باتیں سنائی ہیں کیا کوئی تم میں سے ہے جو میری مدد کرے اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے ؟ مکہ کے سارے بڑے بڑے آدمی بیٹھے رہے۔صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے میرے چچا کے بیٹے ! میں ہوں۔میں آپ کی مدد کروں گا۔آپ نے سمجھا کہ یہ تو بچہ ہے چنانچہ پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! کیا تم میں سے کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ پھر سارے بڑھے بڑھے بیٹھے رہے اور وہ گیارہ سال کا بچہ کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا کے بیٹے ! میں جو ہوں میں تیری مدد کروں گا۔3 پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ خدا کے نزدیک جوان یہی گیارہ سالہ بچہ ہے باقی بڑھے سب بچے ہیں۔چنانچہ آپ نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا اور پھر وہی علی آخر تک آپ کے ساتھ رہے اور پھر آپ کے بعد خلیفہ بھی ہوئے اور انہوں نے دین کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح آپ کی نسل کو بھی اللہ تعالیٰ نے نیک بنایا اور بارہ نسلوں تک برابر ان میں بارہ امام پید اہوئے۔یہ بھی ابراہیمی ایمان تھا۔ابراہیم کی نسل میں بھی ان کے ایک بیٹے سے بارہ امام بنے تھے۔اسی طرح حضرت علی سے بھی بارہ امام پید اہوئے۔مگر کتنا افسوس ہے کہ بعض مخلص لوگ فوت ہوتے ہیں تو ان کے بیٹے ہی خراب ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات پوتا خراب ہو جاتا ہے۔مگر علی کے اندر کیسا ابراہیمی ایمان تھا اور ابراہیمؑ کے اندر کیسا