انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 176

انوار العلوم جلد 25 176 مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ءمیں خطابات کیونکہ ملک کو خدام احمدیہ کی ضرورت ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے خدام احمد یہ جب ہم نے نام رکھا تھا تو اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ تم احمدیوں کے خادم ہو۔اگر تم یہ معنی کرو گے تو بڑی غلطی کرو گے اور ہم پر ظلم کرو گے۔خدام احمدیہ سے مراد تھا احمدیوں میں سے خدمت کرنے والا گروہ۔تم خادم تو دنیا کے ہر انسان کے ہو لیکن ہو احمدیوں میں سے خادم۔اس لئے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم احمدیوں کی خدمت کرو بلکہ مطلب یہ تھا کہ احمدی سٹینڈرڈ کے مطابق خدمت کرو۔چنانچہ دیکھ لو لاہور میں طوفان آیا، مکان گرے تو اس موقع پر جو احمدی معمار ہم نے بھیجے۔ان کے متعلق پولیس نے اور محلے والوں نے اقرار کیا کہ یہ آدمی نہیں یہ تو جن ہیں۔یہ تو منٹوں میں مکان تعمیر کر دیتے ہیں۔تو یہ احمدی سٹینڈرڈ تھا۔سو اپنا احمدی سٹینڈرڈ قائم کرو اور اسے بڑھاتے جاؤ۔دیکھو آج تو تم خدمت کرتے ہو کل دوسروں کو بھی تحریک ہو گی۔لیکن اگر احمدی سٹینڈرڈ کے مطابق تم خدمت کرنے والے ہو گے تو دوسرے تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔وہ ہزار ہوں گے اور تم پچاس ہو گے لیکن تم پچاس اُن ہزار سے زیادہ کام کر جاؤ گے کیونکہ تمہار اسٹینڈرڈ احمدی سٹینڈرڈ ہو گا اور اُن کا سٹینڈرڈ اول تو احمدی سٹینڈرڈ نہیں ہو گا دوسرے وہ فرق کریں گے کہ یہ ہمارا دشمن ہے اور یہ ہمارا دوست ہے۔تم نے کہنا ہے کہ ہم نے تو خدمت کرنی ہے۔چاہے مخالف ہو یا دوست۔اس طرح آپ ہی آپ تمہارا کام دوسروں سے بلند ہو تا چلا جائے گا اور تم ملک کے لئے ایک ضروری وجود بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے تم پر فضل نازل ہوں گے۔جیسا کہ شروع میں میں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرو، دعاؤں پر خاص زور دو اور اپنی اصلاح کی فکر کرو۔جوانی میں تہجد پڑھنے والے اور جوانی میں دعائیں کرنے والے اور جوانی میں سچی خوابیں دیکھنے والے بڑے نادر وجو د ہوتے ہیں۔تم نے ابدال کا ذکر سنا ہو گا۔ابدال در حقیقت وہی ہوتے ہیں جو جوانی میں اپنے اندر تغیر پیدا کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کر لیتے ہیں کہ بڑھے بڑھے بھی آکر کہتے ہیں کہ حضور ہمارے لئے دعا کیجئے۔تمہارے احمدیوں کے بڑھے تو اقطاب ہونے چاہئیں اور