انوارالعلوم (جلد 25) — Page 131
انوار العلوم جلد 25 131 احباب جماعت کے نام پیغامات کو بڑھانے والے معلوم ہوتے تھے اُن کو اُس نے بڑی جلدی اخذ کر لیا۔منور احمد نے بتایا کہ جب ہم ڈاکٹر کو فیس دینے لگے تو سید منیر الحصنی صاحب نے بڑے زور سے روکا۔یہ ہمارا خاندان کا ڈاکٹر ہے ہم اس کو سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اس کو فیس نہ دیں۔اِس سے معلوم ہوا کہ یہاں بھی بڑے خاندان یورپ کی طرح ڈاکٹروں کا ماہانہ یا سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اور ہر دفعہ آنے پر الگ فیس نہیں دی جاتی۔اب یہ پروگرام ہے کہ انشاء اللہ سات تاریخ کو ہم بیروت جائیں گے اور آٹھ کو اٹلی روانہ ہوں گے۔چودھری صاحب انشاء اللہ ساتھ ہی ہوں گے۔ان کی ہمراہی بہت تسلی اور آسائش کا موجب رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔دلوں میں ایسی محبت کا پیدا کرنا محض اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے انسان کی طاقت نہیں۔اس لئے ہم اللہ تعالی کے ہی شاکر ہیں کہ اس نے ہمارے لئے وہ کچھ پیدا کر دیا جو دوسرے انسانوں کو باوجود ہم سے ہزاروں گنے طاقت رکھنے کے حاصل نہیں۔ایک دن یہاں بھی شدید دورہ ہو ا تھا۔مگر خدا کے فضل سے کم ہو گیا۔اب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ملک میں پہنچ کر جہاں Heating system ہو تا ہے بیماری کے ایک حصہ کو کافی فائدہ ہو گا۔جو حملہ یہاں آکر ہو اوہ زیادہ تر دماغی تھا یعنی جسم پر حملہ ہونے کی بجائے دماغ پر لگتا تھا۔بڑی سخت گھبراہٹ تھی۔اُس وقت یہ دل چاہتا تھا کہ اُڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں۔مگر مجبوری اور معذوری تھی۔ادھر علاج کا مقام بھی بہت قریب آگیا تھا اس لئے عقل کہتی تھی اب سفر کی غرض کو پورا کرو۔شاید اللہ تعالیٰ کلی صحت ہی عطا فرما دے اور جسم آئندہ کام کے قابل ہو جائے۔انشاء اللہ اب ہم آٹھ یا نو تاریخ کو تار یا خط کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ سے اپنے حالات لکھیں گے۔احباب دعاؤں میں مشغول رہیں۔کیونکہ علاج کا مرحلہ تو اب قریب آ رہا ہے۔اس سے پہلے تو سفر ہی سفر تھا۔سب احباب جماعت احمدیہ اور عزیزوں اور رشتہ داروں کو سَلَامٌ عَلَيْكُمْ مرزا محمود احمد "" (الفضل 10 مئی 1955ء)