انوارالعلوم (جلد 25) — Page 129
انوار العلوم جلد 25 129 احباب جماعت کے نام پیغامات شر مندہ ہوا اور میں نے کہا ہم لوگوں نے اپنی زبان کس طرح بھلا دی ہے۔میں نے تو فارسی میں شعر نہیں کہے ہوئے۔اب میں ان کو کیا بھجواؤں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول فارسی کے سخت مخالف تھے۔گو مثنوی مولاناروم انہوں نے مجھے سبقا پڑھائی۔فرماتے تھے کہ میاں! مجھے فارسی سے بغض ہے۔کیونکہ فارسی نے عربی کی جگہ لے لی اور عربی دنیا سے مٹ گئی۔اس وجہ سے ہم لوگوں کو بھی فارسی پڑھنے کی طرف توجہ نہیں رہی۔حالانکہ اردو عربی جاننے والے کے لئے فارسی کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔چند مہینے میں اچھی فارسی سیکھ سکتا ہے۔اگر میں اُن کے اِس قول سے اتنا متاثر نہ ہوتا تو کم از کم فارسی دان دنیا سے قریب ترین تعلق پیدا کر سکتا۔ابھی تک کبھی کبھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔فارسی کتاب پڑھ لیتا ہوں۔مگر خود لکھنے بولنے کی مہارت نہیں۔پیغام از دمشق مورخہ 1955ء-5-3 " دمشق 1955ء-5-3 عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی "28-4-1955 (الفضل 3 مئی 1955ء) السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ آج دمشق آئے تیسرا دن ہے۔ہوائی جہاز میں تو اس حادثہ کے سوا کہ اس کے کمبل گلو بند کی طرح چھوٹے عرض کے تھے اور کسی طرح بدن کو نہیں ڈھانک سکتے تھے خیریت رہی۔سردی کے مارے میں ساری رات جاگا اور پھر وہم ہونے لگا کہ شاید مجھے دوبارہ حملہ ہوا ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں ساری رات مجھے کمبلوں سے ڈھانکتے رہے مگر یہ اُن کے بس کی بات نہ تھی۔آخر جب میں بہت نڈھال ہو گیا تو میں نے چودھری صاحب